کیا ڈالر کی بالادستی ختم ہو رہی ہے؟ایک متبادل نظام نے نئی بحث چھیڑ دی

انڈونیشیا اور چین کے درمیان کراس بارڈر کیو آر ادائیگیاں ایک اہم پیش رفت

               
April 25, 2026 · امت خاص, کامرس

 

دنیا میں امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنے کا رجحان بتدریج مضبوط ہو رہا ہے اور مختلف ممالک اس مقصد کے لیے متبادل مالیاتی نظام متعارف کرا رہے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک اہم پیش رفت انڈونیشیا اور چین کے درمیان کراس بارڈر کیو آر ادائیگیوں کا نظام ہے، جسے (Quick Response Code Indonesian Standard) یا QRISکہا جاتا ہے۔ یہ نظام 30 اپریل 2026 کو باقاعدہ طور پر شروع کیا جا رہا ہے، س سے قبل آزمائشی مرحلہ کامیابی سے مکمل کیا جا چکا ہے۔

 

بینک انڈونیشیاکے مطابق ٹرائل کے دوران تقریباً 16 لاکھ 40 ہزار لین دین ہوئے جن کی مجموعی مالیت 556 ارب انڈونیشین روپیہ (تقریباً 32 ملین امریکی ڈالر) رہی۔ اس کامیاب تجربے کے بعد حکام کا کہنا ہے کہ نظام تکنیکی اور تجارتی لحاظ سے مکمل طور پر تیار ہے۔ ڈپٹی گورنر نے اس عمل میں نمایاں دلچسپی اور مثبت ردعمل کو اس منصوبے کی کامیابی کی دلیل قرار دیا۔

 

یہ نظام بنیادی طور پر ڈیجیٹل کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگیوں کو ممکن بناتا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کے شہری اپنے اپنے مقامی ادائیگی پلیٹ فارمز استعمال کرتے ہوئے بیرون ملک بھی خرید و فروخت کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر انڈونیشیا کے شہری چین میں QRIS کو اسکین کر کے ادائیگی کر سکیں گے، چینی شہری انڈونیشیا میں Alipay اور WeChat Pay جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے لین دین کر سکیں گے۔ اس نظام میں انڈونیشیا کے 24 اور چین کے 19 مالیاتی ادارے شامل ہیں، جن میں بینک اور غیر بینک دونوں اقسام کے ادارے شامل ہیں۔

یہ اقدام دراصل ڈی ڈالرائزیشن حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد عالمی تجارت میں امریکی ڈالر کے کردار کو کم کرنا اور مقامی کرنسیوں کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔ اس سے نہ صرف زرمبادلہ کے خطرات کم ہوتے ہیں بلکہ کرنسی کے استحکام میں بھی مدد ملتی ہے۔ مزید یہ کہ سیاحت، تجارت اور کاروباری سرگرمیوں میں آسانی پیدا ہوتی ہے کیونکہ صارفین کو کرنسی تبدیل کرنے یا ڈالر استعمال کرنے کی ضرورت کم ہو جاتی ہے۔

انڈونیشیا اس حوالے سے دیگر ممالک کے ساتھ بھی تعاون بڑھا رہا ہے۔ مثال کے طور پر جنوبی کوریا کے ساتھ بھی اسی نوعیت کا کراس بارڈر QRIS نظام شروع کیا جا چکا ہے، جس کے نتیجے میں لین دین میں 116 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ Perry Warjiyo کے مطابق 2026 کی پہلی سہ ماہی میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کی مجموعی تعداد 14.82 ارب تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 37.69 فیصد زیادہ ہے، جبکہ QRIS ادائیگیوں میں 116 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔