ایرانی بحری جہازوں پر امریکی بحریہ کی کارروائی۔قوانین کیا کہتے ہیں؟

جن جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ان میں “ٹیفانی” اور “میجسٹک” شامل ہیں

               
April 25, 2026 · امت خاص

میجسٹک شپ۔ فائل فوٹو

 

امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں کارروائی کے دوران دو ایرانی تیل بردار جہازوں کو تحویل میں لیا ، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ۔ امریکی حکام کے مطابق اس آپریشن میں کمانڈوز نے براہِ راست جہازوں پر اتر کر کنٹرول حاصل کیا۔

 

جن جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ان میں “ٹیفانی” اور “میجسٹک” شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق “ٹیفانی” نامی جہاز کو پہلے Bay of Bengal میں روکا گیا، جہاں اس پر تقریباً 20 لاکھ بیرل ایرانی خام تیل موجود تھا اور وہ بوٹسوانا کا پرچم لہرا رہا تھا۔ دوسرے جہاز “میجسٹک” پر کارروائی کی ویڈیو بھی جاری کی گئی، جس میں امریکی کمانڈوز کو جہاز پر اترتے دیکھا جا سکتا ہے۔

 

امریکی محکمہ جنگ نے اس کارروائی کو “میری ٹائم انٹرڈکشن” اور “رائٹ آف وزٹ” کے تحت قانونی قرار دیا ہے۔ امریکی موقف کے مطابق یہ ایک ہدفی آپریشن تھا جو ایسے جہازوں کے خلاف کیا جاتا ہے جن پر غیر قانونی سرگرمیوں یا پابندیوں کی خلاف ورزی کا شبہ ہو۔

بحری امور سے متعلق ادارے Windward کے مطابق میری ٹائم انٹرڈکشن باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا جانے والا آپریشن ہوتا ہے، جس میں مشکوک جہازوں کو روک کر ان کی تلاشی لی جاتی ہے۔بین الاقوامی بحری قانون کے تحت “رائٹ آف وزٹ” کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی جہاز کی رجسٹریشن مشکوک ہو یا وہ “اسٹیٹ لیس” یعنی کسی ریاست کے ساتھ واضح طور پر منسلک نہ ہو، تو دیگر ممالک کو اسے روک کر تلاشی لینے کا حق حاصل ہوتا ہے۔

 

پینٹاگون کا دعویٰ ہے کہ ان ایرانی جہازوں کی رجسٹریشن مشتبہ تھی، اسی بنیاد پر کارروائی کی گئی۔امریکی حکام کے مطابق دونوں جہاز اس وقت امریکی تحویل میں ہیں اور ان کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کیا جا رہا ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہیں امریکہ منتقل کیا جا سکتا ہے یا کسی اتحادی ملک کے حوالے کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ اس سے قبل وینزویلا کے ٹینکرز کے ساتھ کیا گیا تھا۔