صومالیہ میں یرغمال پاکستانی ملاح کی کم سن بیٹی باپ کی منتظر

ایم ٹی آنر 25 پر قزاقوں کا قبضہ، 10 پاکستانیوں سمیت 17 رکنی عملہ یرغمال

               
  May 5, 2026 · امت خاص

صومالیہ کی نیم خودمختار ریاست پنٹ لینڈ کے ساحل کے قریب خلیجِ عدن میں پی ایم پی ایف کی میری ٹائم پولیس گشت کر رہی ہے۔

 

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون کے لیے زندگی ایک کربناک انتظار میں بدل چکی ہے، جہاں اس کی کمسن بیٹی روزانہ اپنے اغوا شدہ باپ کی واپسی کے بارے میں پوچھتی ہے۔ 

 

گزشتہ ہفتے جب 26 سالہ عائشہ امین گھر سے ایک کام کے لیے نکل رہی تھیں تو ان کی تین سالہ بیٹی زِمل نے ان کا دامن پکڑ کر پوچھا کہ کیا وہ اب ایئرپورٹ جا رہی ہیں تاکہ اپنے والد کو لے آئیں۔

عائشہ کے مطابق، “ایک تین سالہ بچی کو کیسے سمجھایا جائے کہ اس کا باپ قید میں ہے اور گھر نہیں آ سکتا؟ اس سوال کا جواب کوئی کیسے دے سکتا ہے؟”

 

زِمل کے والد، 29 سالہ امین بن شمس، گزشتہ تقریباً دو ہفتوں سے صومالیہ کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر پر یرغمال ہیں۔ وہ ایم ٹی آنر 25 کے 17 رکنی عملے میں شامل 10 پاکستانی ملاحوں میں سے ایک ہیں، جنہیں 21 اپریل کو صومالی قزاقوں نے اغوا کر لیا تھا۔
جہاز کے عملے میں پاکستانیوں کے علاوہ چار انڈونیشین (جن میں کپتان بھی شامل ہے)، جبکہ سری لنکا، میانمار اور بھارت سے ایک ایک رکن بھی شامل ہے۔

 

عائشہ کے مطابق ان کی بیٹی روزانہ اپنے والد کے بارے میں پوچھتی ہے، جبکہ ان کا چار ماہ کا بیٹا، رحیم، جو 24 دسمبر کو پیدا ہوا، ابھی تک اپنے والد سے کبھی نہیں ملا۔ امین اپنے پہلے مرچنٹ نیوی معاہدے پر روانگی کے صرف دو ہفتے بعد باپ بنے تھے۔
امین نے کراچی کے ایک شپ یارڈ میں برسوں کام کرنے کے بعد اپنی پہلی ملازمت ایک مرچنٹ جہاز پر حاصل کی تھی۔ وہ 9 دسمبر کو کراچی کی ایک کریونگ ایجنسی کے ذریعے ایم ٹی آنر 25 میں بطور فٹر شامل ہوئے۔ ان کا خاندان کراچی کے علاقے ملیر کھوکھراپار میں رہائش پذیر ہے، جو ایک متوسط طبقے کا علاقہ ہے۔

 

عائشہ کے مطابق اغوا سے پہلے کے مہینے امین کی زندگی کے خوشگوار ترین دن تھے۔ وہ رات کو، کبھی صبح کے وقت، اکثر ویڈیو کال کے ذریعے بات کرتے، سمندر پر طلوع ہوتے سورج کے مناظر دکھاتے، ڈولفنز کی ویڈیوز بھیجتے اور اپنے روزمرہ کے معمولات، کھانے پینے اور جہاز کی زندگی کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کرتے تھے۔

 

اب یہی یادیں اس خاندان کے لیے سہارا بنی ہوئی ہیں، جو اپنے پیارے کی بحفاظت واپسی کے منتظر ہیں۔