بریکنگ امریکہ کو ایرانی جواب کا انتظار۔ معاہدہ قریب ہونے کی رپورٹس درست نہیں،تہران
فریقین کی تازہ جھڑپوں اور امارات پر نئے حملے کے بعد حالات پھر کشیدہ
جنگ ختم کرنے کی امریکی تجاویز پر ایران کا جواب آج متوقع ہے تاہم بعض ایرانی ذرائع کے مطابق امریکہ کے پیش کردہ حل کی کچھ شقیں ناقابل قبول ہیں۔اس دوران فریقین کے ایک دوسرے پر حملے بھی جاری ہیں ۔امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ کو جمعہ کے روز ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے سے متعلق تجاویز پر جواب موصول ہو جانا چاہیے۔اٹلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم دیکھیں گے کہ جواب میں کیا شامل ہے۔ امید ہے کہ یہ ایسا ہو گا جو ہمیں سنجیدہ مذاکراتی عمل کی جانب لے جا سکے۔دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف ان رپورٹس کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار نظر آئے جن میں اشارہ کیا گیا تھا کہ دونوں فریق معاہدے کے قریب ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ایسی رپورٹس امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے کھولنے میں ناکامی کے بعد محض گمراہ کن پروپیگنڈا ہیں۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور مستقل نمائندے امیر سعید اروانی نے امریکہ اور بعض عرب ممالک کی طرف سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے پیش کی گئی قرارداد کے مسودے کے جواب میں کہا کہ آبنائے ہرمز کا واحد ممکنہ حل جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنا، بحری ناکہ بندی اٹھانا اور معمول کی بحری نقل و حمل کو بحال کرنا ہے۔
انھوں نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں صحافیوں کو ایک بیان میں مزید کہا کہ امریکہ کے اقدامات واضح طور پر اس کے بیان کردہ مقاصد سے متصادم ہیں، اور اس نے خطے میں کشیدگی کو بڑھانے اور عدم استحکام کو مزید گہرا کرنے کا کام کیا ہے۔انھوں نے زوردے کر کہا کہ ’ایران کا مؤقف واضح ہے، آبنائے ہرمز کا واحد ممکنہ حل جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنا، بحری ناکہ بندی کو ہٹانا اور معمول کی بحری نقل و حمل کو بحال کرنا ہے، اس کے برعکس، امریکہ، ’بحری جہاز کی آزادی‘ کی آڑ میں، سلامتی کونسل میں اپنی قرارداد کے مسودے کو سیاسی طور پر پیش کرنے کے لیے ایک ناقص اور سیاسی طور پر حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ ان کے مطابق یوں امریکہ بحران کو حل کرنے کے بجائے غیر قانونی اقدامات کی طرف بڑھا رہا ہے۔
ایروانی کے مطابق اس مسودہ قرارداد میں بین الاقوامی جہاز رانی کی حمایت نہیں کی گئی ہے۔ اس کا اصل مقصد خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں ایران کے خلاف امریکہ کی طرف سے کیے گئے غیر قانونی اقدامات کو قانونی حیثیت دینا ہے جس میں غیر قانونی بحری ناکہ بندی بھی شامل ہے۔دریں اثنا،ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک بحری اتھارٹی قائم کر دی ہے، جو تجارتی جہازوں کی اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے کے اجازت نامے جاری کرے گی اور اس کے عوض ٹرانزٹ فیس وصول کرے گی۔
شپنگ اور بحری تجارت سے متعلق خبروں اور معلومات فراہم کرنے والے ادارے ’لائیڈز لسٹ‘ کے مطابق ’خلیج فارس سٹریٹ اتھارٹی‘ نے حالیہ دنوں میں ایک نیا طریقہ کار متعارف کرایا ہے جس کے تحت جہازوں کو روانگی سے قبل ٹرانزٹ اجازت نامہ حاصل کرنا اور فیس ادا کرنا ہو گی۔
لائیڈز لسٹ نے یہ رپورٹ اس نمونہ فارم کی بنیاد پر تیار کی ہے جو اس اتھارٹی نے حالیہ دنوں میں جہاز رانی کی کمپنیوں کو بھیجا ہے۔
ادھر،ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا کی سائٹ ایکس پر عربی کا ایک محاورہ شیئر کیا ہے۔ جس کا ترجمہ ہے:
’اگر تم شیر کے نوکیلے دانت نمایاں دیکھو،
تو یہ ہرگز نہ سمجھنا کہ شیر مسکرا رہا ہے
یعنی ایران نے بالواسطہ طور پر امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ ہمارے تحمل کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق،ایران جنگ میں غیر معینہ مدت کی موجودہ فائر بندی کے دوران آبنائے ہرمز میں امریکی اور ایرانی فورسز کے مابین نئی جھڑپ اور متحدہ عرب امارات پر نئے ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں سے خطے میں کشیدگی میں پھر اضافہ ہو گیا ہے۔
عرب میڈیا کا کہناہے کہ فریقین کے موقف متضاد ہیںکیونکہ ہر فریق نے دوسرے پر الزام لگایا اور اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی شروع کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ لڑائی کا تازہ سلسلہ ایک حساس وقت میں سامنے آیا ہے، جب واشنگٹن امریکی تجویز پر ایرانی رد عمل کا منتظر ہے۔ روئٹرز کے مطابق اس تجویز میں ایک ابتدائی معاہدے کی بات کی گئی ہے جو لڑائی کو ختم کر دے گا، ایرانی جوہری پروگرام جیسے اہم مسائل کو فی الحال حل طلب چھوڑ دیا گیا ہے تاکہ ان پر بعد میں مذاکرات کیے جا سکیں۔