آئی بی آئی پاکستان ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹر کی باضابطہ لانچنگ، دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر زور
آئی بی آئی چین کے 100 سے زائد صنعتی شعبوں کا احاطہ کرتا ہے , فراہم کردہ معلومات
فوٹو پریس ریلیز
اسلام آباد (افضل شاہ یوسفزئی) آئی بی آئی پالستان ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹر کی باضابطہ لانچنگ تقریب منعقد ہوئی، جس میں نائب وزیراعظم و خارجہ وزیر اسحاق ڈار۔وفاقی وزیر شیزاہ فاطمہ، پاکستان میں چینی سفیر، کاروباری شخصیات، سرمایہ کاروں اور چین و پاکستان کے صنعتی و تجارتی شعبوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
تقریب میں پیش کی گئی معلومات کے مطابق آئی بی آئی چین کے 100 سے زائد صنعتی شعبوں کا احاطہ کرتا ہے
جس کے پلیٹ فارم سے 31 لاکھ 80 ہزار سے زائد رجسٹرڈ کاروباری ادارے منسلک ہیں جبکہ دنیا کے 180 ممالک کے خریدار اس نیٹ ورک سے وابستہ ہیں۔
ادارے کے پاس 10 ملین ییلو پیجز ڈیٹا بیس اور 150 ملین بولی و ٹینڈرنگ معلوماتی ریکارڈز موجود ہیں، جبکہ چین بھر میں 1,000 کلاؤڈ فیکٹریز کی معاونت بھی فراہم کی جا رہی ہے،
تقریب میں آئی بی آئی سی ای او نے کہا کہ آئی بی آئی ٹیم اب تک 30 سے زائد بڑے معاہدوں پر کام کر چکی ہے، جن کی مجموعی مالیت 150 ملین امریکی ڈالر سے زائد بنتی ہے۔ اس تعاون کا مقصد پالستان میں ڈیجیٹل معیشت، صنعتی روابط، برآمدات اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ آئی بی آئی ٹیکنالوجی پر مبنی، مارکیٹ پر مرکوز اور تبدیلی لانے والی شراکت داری کی علامت ہے، اور اس کا پالستان میں داخل ہونا ملکی معیشت پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ستمبر میں کیے گئے وعدوں کو آج عملی شکل دی جا رہی ہے، جو دوطرفہ اقتصادی تعاون میں اہم پیش رفت ہے۔
آئی بی آئی سی ای او نے کہا یہ ایک ون ونڈو سروس پلیٹ فارم ہوگا، جہاں کسٹمز کلیئرنس، زرمبادلہ تصفیہ، منصوبوں کی منظوری اور ریگولیٹری ہم آہنگی جیسی تمام سہولیات ایک ہی جگہ فراہم کی جائیں گی.
پالستان کو دراصل ایک ایسے پلیٹ فارم کی ضرورت ہے جو ان صلاحیتوں کو عالمی منڈیوں، جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی سرمایہ سے جوڑ سکے اور یہی کردار آئی بی آئی ادا کر رہا ہے
ہم صرف پالستانی کاروباروں کی میزبانی نہیں کریں گے، بلکہ فانگدا گروپ کے طور پر پالستان کو برآمدات پر مبنی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں مدد دیں گے۔ یہ الگ تھلگ فیکٹریاں قائم کرنے کے ذریعے نہیں، بلکہ مکمل صنعتی کلسٹرز کی ڈیجیٹل ترقی کے ذریعے ہوگا۔ یہ صرف چینی مصنوعات کی درآمد نہیں، بلکہ عالمی منڈی کے لیے مشترکہ پیداوار کا ماڈل ہوگا
ستمبر 2015 میں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے مجھ سے کہا تھا کہ پالستان تیار ہے، اور ہم نے اس یقین کے ساتھ اپنے وعدے پورے کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے۔ آج ہم یہاں موجود ہیں۔
ہم پالستان کے مہمان نہیں، بلکہ سرمایہ کار، شراکت دار اور اس کے معاشی مستقبل کے حقیقی اسٹیک ہولڈرز ہیں۔ ہم سعودی عرب، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کی جانب بھی جائیں گے، لیکن ہم کبھی نہیں بھولیں گے کہ پالستان ہماری پہلی منزل تھا۔