لوکل اے پی آئی ویکسینز کی تیاری کیلیے پاک چائنا ٹیکنالوجی ٹرانسفر معاہدہ

ہر سال تقریباً 11 ہزار مائیں زچگی کے دوران جان کی بازی ہار جاتی ہیں، جو تشویشناک صورتحال ہے، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال

May 13, 2026 · قومی, ہیلتھ
فوٹو پریس ریلیز

فوٹو پریس ریلیز

اسلام آباد (افضل شاہ یوسفزئی) پاک چائنا فارماسیوٹیکل انویسٹمنٹ تقریب میں وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے لیے آج تاریخی دن ہے، جس کا انتظار کئی سالوں سے کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہیلتھ کیئر نظام کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے جہاں 17 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہو کر دماغی طور پر کمزور پیدا ہو رہے ہیں۔

وزیر صحت نے مزید بتایا کہ ہر سال تقریباً 11 ہزار مائیں زچگی کے دوران جان کی بازی ہار جاتی ہیں، جو تشویشناک صورتحال ہے۔

انہوں نے کہا کہ غذائی قلت بچوں کی ذہنی نشوونما روک رہی ہے اور ہمیں اس چیلنج سے نمٹنا ہوگا۔ زچگی کے دوران ماؤں کی اموات روکنے کے لیے بروقت طبی سہولیات اور ہیلتھ کیئر سسٹم کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔

ماں کی جان بچانا قومی اور انسانی ذمہ داری ہے، اور صحت صرف حکومت کی نہیں بلکہ ہر فرد کی بھی ذمے داری ہے
مصطفیٰ کمال نے پاک چائنا معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اے پی آئی اور ویکسینز ہیلتھ کیئر سیکٹر کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

چینی اور پاکستانی کمپنیوں کے درمیان ٹیکنالوجی ٹرانسفر کا معاہدہ ہوا ہے، جس سے لوکل اے پی آئی اور را مٹیریل کی تیاری ممکن ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ڈبلیو ایچ او پری کوالیفائیڈ ڈرگ لیب کا قیام بڑی کامیابی ہے، جس سے ادویات کی جانچ کے لیے دوسرے ممالک پر انحصار کم ہوگا اور مقامی سطح پر عالمی معیار کی ادویات تیار ہوں گی۔ فارما سیکٹر میں سرمایہ کاری سے ادویات کی صنعت مزید مضبوط ہوگی۔

وزیر صحت نے کہا کہ صحت کے شعبے کے مسائل حل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، کوئی احسان نہیں۔ وزارتِ صحت مسائل سے بخوبی واقف ہے اور ان کے حل کے لیے دن رات کام کر رہی ہے۔ فارما انڈسٹری اپنے مسائل کھل کر بتائے تو حکومت سہولت فراہم کرے گی۔

انہوں نے پاکستان کے پرائیویٹ سیکٹر اور چائنا کے لوگوں کا ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے ذریعے ہیلتھ کیئر میں کامیابی حاصل کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

اس موقع پر پارلیمانی سیکریٹری ہیلتھ ڈاکٹر ذوالفقار خان نے کہا کہ پاکستان فارما کونسل قائم ہو رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اے پی آئی ہم انڈیا اور چین سے درآمد کرتے ہیں، جسے مقامی سطح پر مضبوط بنانا ضروری ہے۔