کرپشن کی داستان: دریائے سندھ پرزیرتعمیر کشمور پل زمین بوس
سچل کنسٹرکشن کمپنی کے تعمیراتی معیار پر سنگین سوالات، سندھ حکومت خاموش
زمین بوس ہونے والا زیر تعمیر پل۔۔فوٹو امت
ڈہرکی:رپورٹ: میر عابد بھٹو : گھوٹکی کندھ کوٹ پل مکمل ہونے سے قبل زمین بوس ہوگیا، سندھ حکومت کے پول کھل گئے، اربوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی پل کرپشن کے بھینٹ چڑھ گیا، انتظامیہ اور کنسٹرکشن کمپنی میں کھلبلی مچ گئی، پل مکمل ہونے سے قبل ایک حصہ زمین بوس ہونے کے باعث سوال اٹھ گئے، پل کے دیگر حصہ حصوں میں ناقص میٹریل استعمال ہونے خدشہ ہے۔
تفصیلات کے مطابق دریائے سندھ پر اربوں روپے کی لاگت سے زیرِ تعمیر گھوٹکی کندھکوٹ (کشمور) پل ابھی مکمل بھی نہ ہو سکا تھا کہ اچانک اس کا ایک بڑا حصہ زمین بوس ہو گیا۔ ایک ایسا منصوبہ جسے عوام کے لیے سہولت کا ذریعہ بننا تھا، خود بدانتظامی اور مبینہ کرپشن کی بھینٹ چڑھ گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق پل کا وزنی ستون ناقص مٹیریل کے باعث اچانک گر گیا، جس نے نہ صرف تعمیراتی معیار پر سوال اٹھا دیے بلکہ اس پورے منصوبے کو مشکوک بنا دیا۔ 4 ارب سے شروع ہونے والا منصوبہ 70 ارب تک پہنچ گیا۔
مذکورہ منصوبہ تقریباً 4 ارب روپے سے شروع ہوا ہر مالی سال کے بجٹ میں ریوائز ہوتے اس کی لاگت 70 ارب روپے سے بھی تجاوز کر گئی۔
ذرائع کے مطابق اس پل کی تعمیر سچل کنسٹرکشن کمپنی کر رہی ہے جبکہ نگرانی کے لیے ایک الگ کنسلٹنسی کمپنی بھی ہائر کی گئی مذکورہ دونوں کمپنیوں کا تعلق سندھ حکومت میں ایک ہی بااثر شخصیت سے ہے۔
مذکورہ پل گھوٹکی اور کندھ کوٹ کشمور کے درمیان فاصلے کم کرنے کے لیے بنایا جا رہا تھا، مگر اب یہ منصوبہ خود تاخیر اور تنازع کا شکار ہو چکا ہے۔
دوسری طرف اتنا بڑا حادثہ ہونے کے باوجود ابھی تک کسی اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی کا اعلان نہیں کیا گیا اور نہ ہی کنسٹریشن کمپنی کے خلاف کاروائی کی گئی ہے۔
مذکورہ پل کو ایشیا کی بڑی ترین پل کہا جا رہا تھا، مکمل ہونے سے پہلے ہی زمین بوس ہو گئی۔ پل کی تعمیر سے قبل ایک حصہ زمین بوس ہونے پر سوال اٹھ گئے ہیں کہ پل کے دیگر حصوں میں بھی ناقص مٹیریل استعمال کیا گیا ہے۔