آئی ایم ایف کی 11 نئی شرائط، نئے مالی سال میں 430 ارب نئے ٹیکس متوقع
چینی، سیمنٹ، تمباکو اور کھاد شعبوں میں اربوں روپے ٹیکس خسارہ سامنے آگیا
فائل فوٹو
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے لیے 11 نئی شرائط پیش کر دی ہیں جبکہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 430 ارب روپے کے اضافی ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آر کے لیے 15 ہزار 267 ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف تجویز کیا گیا ہے، جبکہ پٹرولیم لیوی کی مد میں 1727 ارب روپے اکٹھے کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔
حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ٹیکس آمدن میں اضافے اور ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چینی، سیمنٹ، تمباکو اور کھاد کے شعبوں میں 160 ارب روپے سے زائد کا ٹیکس گیپ موجود ہے، جس کے بعد ان شعبوں کی نگرانی سخت کر دی گئی ہے۔ آئی ایم ایف کو بتایا گیا کہ ایف بی آر ٹیکس وصولی بہتر بنانے کے لیے نیا نظام متعارف کرا رہا ہے جبکہ بڑے ٹیکس نادہندگان کی نشاندہی سی آر ایم سسٹم کے ذریعے کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے 431 نئے آڈیٹرز بھرتی کیے ہیں جبکہ مزید 396 افسران جون تک تعینات کیے جائیں گے۔ سخت آڈٹ نظام کے ذریعے 2027 تک 92 ارب روپے اضافی آمدن حاصل ہونے کی توقع ہے، جبکہ تمام سیلز ٹیکس دہندگان کے لیے ڈیجیٹل انوائسنگ لازمی قرار دی گئی ہے، جس سے 46 ارب روپے مزید ریونیو حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
آئی ایم ایف کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ٹیکس چوری روکنے کے لیے ٹیکسٹائل سمیت مختلف صنعتی شعبوں کی پیداوار کی نگرانی کی جائے گی جبکہ ٹیکسٹائل اور بیوریجز سیکٹر کو اکتوبر 2026 تک مکمل مانیٹرنگ نظام میں شامل کر لیا جائے گا۔ ایف بی آر کے آڈٹ سسٹم کو عالمی معیار کے مطابق مزید مؤثر بنانے اور ہائی رسک ٹیکس کیسز کی مرکزی سطح پر نگرانی کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق زرعی آمدن سے متعلق ٹیکس اہداف مکمل نہ ہو سکے کیونکہ نئی شرحوں کے نفاذ میں تاخیر اور عملی مشکلات کا سامنا رہا۔ تاہم ایف بی آر نے صوبوں کو انکم ٹیکس سے متعلق معلومات فراہم کرنا شروع کر دی ہیں تاکہ مالی سال 2027 میں صوبائی ٹیکس وصولی بہتر بنائی جا سکے۔
دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈائریکٹ ٹیکسز سے 7413 ارب روپے، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے 1043 ارب روپے، سیلز ٹیکس سے 4727 ارب روپے اور کسٹمز ڈیوٹی سے 1651 ارب روپے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران سود کی ادائیگیوں پر 7824 ارب روپے خرچ ہونے کی توقع ہے، جن میں 6652 ارب روپے مقامی جبکہ 1107 ارب روپے بیرونی قرضوں کے سود کی ادائیگی پر خرچ ہوں گے۔ دفاعی بجٹ کے لیے 2665 ارب روپے جبکہ پی ایس ڈی پی پروگرام کے لیے 986 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
آئی ایم ایف کی تفصیلی جائزہ رپورٹ میں کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال نے پاکستان کی معاشی سرگرمیوں، سپلائی چین اور عوامی قوت خرید کو متاثر کیا جبکہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.6 فیصد، اوسط مہنگائی 7.2 فیصد اور بیروزگاری کی شرح 6.9 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر 17.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق اسٹیٹ بینک نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے بروقت سخت مانیٹری پالیسی اپنائی جبکہ معاشی اصلاحات اور مسابقت کے فروغ سے پاکستان کو طویل المدتی معاشی استحکام حاصل ہو سکتا ہے۔