جیکب آباد میں شادی کے تنازع پرگاؤں کےمتعدد گھر نذرآتش

لڑکی کا عدالت میں بیان: مجھے نہ اغوا کیا گیا نہ دباؤ ہے

May 16, 2026 · قومی

لڑکی کی شادی پر دونوں برادریوں میں تصادم

 

جیکب آباد میںٹھل کے علاقے غازی خان چنہ میں پسند کی شادی کے بعد شدید تنازع پیدا ہوگیا، جس کے نتیجے میں ایک گاؤں کو آگ لگا دی گئی۔

رپورٹ کے مطابق لڑکی سدرہ چنہ اور محمد حسن برڑو نے حیدرآباد کی عدالت میں پسند کی شادی کی، جس کے بعد لڑکی کے ورثاء نے برڑو برادری کے گاؤں پر حملہ کر دیا اور متعدد گھروں کو آگ لگا دی۔

واقعے کے بعد برڑو برادری کے افراد گھروں سے نکل کر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہوگئے۔

لڑکی سدرہ چنہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے اپنی مرضی سے عدالت میں شادی کی ہے، انہیں نہ کسی نے اغوا کیا اور نہ ہی کسی قسم کا دباؤ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان پر کم عمر ہونے کے غلط الزامات لگائے جا رہے ہیں،  وہ بالغ ہیں اور اپنی مرضی سے گھر سے گئی تھیں۔دوسری جانب جوابی کارروائی میں مبینہ طور پر چنہ برادری کے افراد نے بھی برڑو برادری کے ایک اور گاؤں کو آگ لگا دی، جس سے متعدد گھر متاثر ہوئے۔

پولیس کے مطابق واقعے پر چنہ برادری کے5 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، مزید گرفتاریوں کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔جیکب آباد پولیس نے تصدیق کی تھی کہ مسلح ملزمان گاؤں بھر میں گھر جلانے کے دوران اندھا دھند فائرنگ کرتے رہے۔پولیس حکام کے مطابق گھروں کو جلانے کے معاملے میں 12 نامزد سمیت 32 ملزمان پر دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

برڑو برادری کا کہنا ہے کہ اعلی ادارے ہماری مدد کریں۔  جوڑے نے بھی اپیل کی ہے کہ ہماری جان کو خطرہ ہے

شادی کرنے والے نوجوان کے والد ملہار برڑو نے کہا ہے کہ بیٹے نے لڑکی سے پسند کی شادی کی ہے، مجھے علم نہیں تھا۔میڈیا سے گفتگو میں ملہار برڑو نے استفسار کیا کہ اگر بیٹے نے غلطی کی ہے تو پورے گاؤں کے گھر کیوں جلائے گئے؟

اس معاملے پر سردار احمد علی چنہ نے جیکب آباد کے گاؤں صدیق آرائیں میں کئی گھر جلانے کے واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ ہمارے اوپر سیاسی مخالفین نے الزام لگایا ہے۔