” آپریشن سندور”میں رسوائی کو اے آئی کے سہارے چھپانے کی بھارتی کوشش بے نقاب
مکمل طور پر جعلی ا سکرپٹ، کرداروں اورمناظر پرمبنی فلم نشر
بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف جھوٹا پروپیگینڈا پھیلانے اور من گھڑت کہانیاں تراشنے کی ایک اور شرمناک کوشش بری طرح بے نقاب ہو گئی ہے۔
بھارتی چینل” ریپبلک نیوز ”نے آپریشن سندور کے نام پر ایک مبینہ دستاویزی فلم نشر کی ہے، جس کا پورا اسکرپٹ، تمام کردار، اور مناظر مکمل طور پر جعلی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ذریعے تیار کیے گئے ہیں۔ اس نام نہادڈاکیومینٹری میں پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور بھارتی عسکری قیادت کے جعلی اے آئی کلپس اور تصاویر کا سہارا لے کر اپنے عوام کو مطمئن کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب بھارت نے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کیا ہو۔ ماضی میں بھی بھارتی میڈیا پر جنگی ویڈیوز کے نام پر اینیمیٹڈ ویڈیو گیمز کے کلپس چلا کر جھوٹی فتوحات کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں، اور اب آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے دور میں ڈیپ فیکس اور جعلی ویڈیوز بنا کر انفارمیشن وار فیئر جیتنے کے خواب دیکھے جا رہے ہیں۔اس کے برعکس، پاکستان کا بیانیہ ہمیشہ سچائی، وقار اور ٹھوس حقائق پر استوار رہا ہے۔
آئی ایس پی آر (ISPR)، وزارتِ اطلاعات و نشریات اور پاکستانی میڈیا نے جب بھی ”معرکہ حق”یا دفاعِ وطن کی داستانیں دنیا کے سامنے رکھیں، تو ان کا معیار تکنیکی اور اخلاقی دونوں لحاظ سے اس قدر بلند تھا کہ دشمن کو بھی ان کی سچائی تسلیم کرنا پڑی۔
مبصرین کے مطابق ،پاکستان نے کبھی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے جھوٹے سہارے نہیں لیے، کیونکہ پاک فوج اور پاکستانی عوام کے پاس” آپریشن بنیان مرصوص” جیسے حقیقی معرکوں کی سچی اور ناقابلِ تردید داستانیں موجود ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ بھارت کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مددسے پروپیگینڈا فلمیں تو بنائی جا سکتی ہیں، لیکن حقیقی جنگیں، سچے بیانیے اور قوموں کا وقار صرف سچائی، غیرت اور گرائونڈ پر موجود بہادری سے ہی جیتا جاتا ہے، جس میں پاکستان کا کوئی ثانی نہیں۔