انمول پنکی کیخلاف 15 مقدمات کی سماعت، ملزمہ کا وکلا سے اظہار لاتعلقی

پورا دن عدالتوں میں کیا ہوتا رہا، بنی گالا کے شخص کا ذکر، ایک مقدمے میں 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ

May 17, 2026 · اہم خبریں, قومی

مبینہ کوکین ہوئیں انمول پنکی کیخلاف ہفتے کے روز مختلف عدالتوں میں منشیات اور قتل سمیت کئی مقدمات کی سماعت ہوئی۔ جنوبی، وسطی اور ملیر اضلاع کی عدالتوں میں مجسٹریٹس نے 15 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ سے متعلق پولیس کی درخواستوں پر فیصلے محفوظ کیے، جن میں ایک قتل کا مقدمہ بھی شامل تھا۔

کراچی کی ایک عدالت نے ہفتے کے روز مبینہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کو متعدد مقدمات میں سے ایک کیس میں 22 مئی تک پولیس کے جسمانی ریمانڈ پر دے دیا۔

کراچی پولیس نے منگل کو ایک خاتون کو گرفتار کیا تھا جس پر شہر میں منشیات کی منظم سپلائی نیٹ ورک چلانے کا الزام ہے۔ پولیس کے مطابق ملزمہ انمول عرف پنکی کو گارڈن کے علاقے میں واقع ایک اپارٹمنٹ پر شہر پولیس اور ایک سول ادارے کی مشترکہ کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا۔

بدھ کو پولیس نے ملزمہ کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تھا جبکہ حکام نے دعویٰ کیا کہ منشیات کے اس نیٹ ورک کی تحقیقات کا دائرہ تیزی سے وسیع ہو رہا ہے اور اس کے دور رس روابط سامنے آ رہے ہیں۔

سٹی کورٹ میں منشیات اور قتل سے متعلق مقدمات کی سماعت کے دوران سینٹرل کورٹ کے مجسٹریٹ نے انمول کو ایک منشیات کیس میں 22 مئی تک اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کی تحویل میں دے دیا۔ عدالت نے تفتیشی افسر کو آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کی بھی ہدایت کی۔

جنوبی ضلع کی عدالت میں پیشی کے دوران انمول نے الزام عائد کیا کہ اس پر تشدد کیا گیا اور اسے جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جا رہا ہے۔

ملزمہ نے عدالت میں کہا، “میرا نام انمول ہے۔ مجھے 20 دن سے رکھا گیا ہے۔ مجھ پر منشیات سے بھرا بیگ ڈال دیا گیا۔ چھ افراد مجھے گاڑی میں ڈال کر لے گئے۔ 15 دن بعد مجھے پولیس کے حوالے کیا گیا۔ مجھ پر دباؤ ڈال کر لوگوں کے نام لینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔”

انمول نے مزید دعویٰ کیا کہ اسے بعض افراد کی نشاندہی کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے جن کے نام اسے بتائے جا رہے ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملزمہ کا بیان درست انداز میں ریکارڈ نہیں کیا جا رہا اور تفتیشی افسر کو سابقہ عدالتی احکامات پیش کرنے کی ہدایت کی۔ مجسٹریٹ نے ملزمہ کی صحت سے متعلق بھی استفسار کیا۔

انمول نے مزید کہا کہ اس کے خلاف “20 سے 25 مقدمات” درج کیے جا رہے ہیں اور اسے دھمکی دی گئی کہ اگر اس نے “سب کچھ قبول نہ کیا” تو اس کے اہل خانہ کو بھی اٹھا لیا جائے گا۔

ملزمہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بنی گالہ کے ایک شخص کا نام لینے کے لیے اس پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اس کے مطابق اسے ایک وین میں لا کر ہدایات دی گئیں جبکہ جس گھر سے اس کی گرفتاری ظاہر کی گئی وہ “اس کا گھر نہیں” تھا۔

عدالت نے سابقہ عدالتی احکامات اور نظرثانی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔

بغدادی تھانے میں درج قتل کے مقدمے میں تفتیشی افسر نے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ مزید تحقیقات کی گئی ہیں۔

عدالت کے استفسار پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ پولیس نے انمول سے تفتیش کی ہے اور اس کے خلاف مزید 11 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ افسر کے مطابق ملزمہ کی نشاندہی پر منشیات برآمد ہوئی جبکہ اسے پہلے بھی تین مقدمات میں جیل بھیجا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملزمہ کافی عرصے سے مفرور تھی۔

عدالت نے بغدادی تھانے کے قتل کیس میں دو روزہ مزید جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا جبکہ باقی 12 مقدمات میں انمول کو جیل بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے تفتیشی افسر سے پیش رفت رپورٹس طلب کر لیں۔

سماعت کے دوران مجسٹریٹ نے مفرور ملزم قمر کے بارے میں بھی پوچھا، جس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ وہ دفعہ 512 کے تحت مطلوب ہے۔

عدالت میں کچھ وکلا نے انمول کی نمائندگی کا دعویٰ کیا، تاہم ملزمہ نے کہا، “یہ میرے وکیل نہیں ہیں۔”

اس پر مجسٹریٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انمول کو ہدایت کی کہ وہ صرف اپنے وکیل سے بات کرے۔

دوسری جانب ملیر کی عدالت میں انمول کو سچل تھانے میں درج منشیات برآمدگی کے مقدمے میں پیش کیا گیا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ کی نشاندہی پر ایک گھر سے منشیات برآمد کی گئی ہیں۔

ملزمہ نے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا، “مجھے جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جا رہا ہے۔ مجھے لاہور سے لایا گیا۔”

ملیر کی عدالت نے سچل تھانے کے مقدمے میں انمول کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا اور تفتیشی افسر کو 14 روز میں چالان جمع کرانے کی ہدایت کی۔

بعد ازاں پراسیکیوشن نے ملیر عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا۔ سندھ کے قائم مقام پراسیکیوٹر جنرل منتظر مہدی نے کہا کہ اس سلسلے میں فوجداری نظرثانی درخواست دائر کی جائے گی۔