مریم نوازکا خواتین کو ہراساں کرنے کے حوالے سے سخت پیغام

کوئی بھی شخص، چاہے اس کا عہدہ، حیثیت یا سیاسی تعلق کچھ بھی ہو، قانون سے بالاتر نہیں ،وزیر اعلیٰ پنجاب

May 22, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

لاہور : وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ ایک صوبائی رکنِ اسمبلی اور ایک معروف میڈیا شخصیت سے متعلق حالیہ معاملہ ذاتی نوعیت کا ہے، تاہم اس کو قانون اور میرٹ کے مطابق نمٹایا جائے گا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں مریم نواز نے کہا کہ کسی خاتون کو ہراساں کرنے، دھمکانے یا استحصال کرنے کی کوشش میں ملوث افراد کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی شخص، چاہے اس کا عہدہ، حیثیت یا سیاسی تعلق کچھ بھی ہو، قانون سے بالاتر نہیں ۔

مریم نواز نے کہا کہ ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریاں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انداز میں آئین اور قانون کے مطابق ادا کریں گے۔

انھوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی خاتون کو ذاتی مواد عام کرنے کی دھمکی دے کر بلیک میل کرنے یا سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرنے کی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

ان کے بقول اسے ملوث افراد کے لیے ایک واضح اور سنجیدہ پیغام سمجھا جائے۔

واضح رہے کہ تین روز قبل اداکارہ مومنہ اقبال نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ایک لیگی ایم پی اے کی جانب سے انھیں اور ان کے خاندان کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اس معاملے پر مختلف اداروں میں شکایات درج کرا چکی ہیں، تاہم ملزم کے خلاف کارروائی کے بجائے ان کی شکایت کو دبایا جا رہا ہے۔

جمعے کو ثاقب چدھڑ نے اداکارہ مومنہ اقبال سے متعلق معاملے پر وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے گذشتہ آٹھ ماہ سے مومنہ اقبال کو کوئی کال نہیں کی اور اب ان کا ان سے کوئی رابطہ بھی نہیں ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس اس حوالے سے تمام ریکارڈ موجود ہے اور مومنہ اقبال ’ویمن کارڈ‘ استعمال کر رہی ہیں۔

ثاقب چدھڑ کے مطابق اداکارہ کے ہونے والے شوہر نے ان کے موبائل میں ان کی ایک ویڈیو دیکھی، جس کے بعد انھوں نے غصے میں آ کر انھیں کال کر کے دھمکی دی۔ جبکہ ان کے بقول اداکارہ کی والدہ اور خود اداکارہ نے بھی انھیں فون کر کے معذرت کی ہے اور درگزر سے کام لینے کی درخواست کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس معاملے پر انھوں نے تھانے میں درخواست بھی دی ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ انھیں ایک مخصوص نمبر سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

لیگی رکنِ اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ انھیں بعد میں معلوم ہوا کہ مومنہ اقبال شادی کرنے جا رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر انھوں نے کبھی مومنہ اقبال کو کال کی ہو تو اس کے ثبوت پیش کیے جائیں۔