یہودی اسرائیل چھوڑکر واپس جرمنی جانے لگے

7 اکتوبر2023 کے بعد نقل مکانی کی درخواستوں میںبڑا اضافہ ہوا

June 1, 2026 · امت خاص

 

یہودی اسرائیل چھوڑ کر واپس یورپ جانے لگے، اور جرمنی ان کا سب سے پسندیدہ ملک بن گیا ہے، وہی جرمنی جہاں سے ہٹلر نے انہیں نکالا تھا۔ اس کا سبب کیا ہے، کیا مذہب کے نام پر حاصل کیا گیا وطن یہودیوں کو اب پسند نہیں آرہا؟


جرمنی یہودیوں کے لیے اسرائیل چھوڑ کر جانے کا ایک پسندیدہ ملک بن گیا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں،یورپ میں بڑھتی یہود مخالفت، اور دنیابھرکی غیر یقینی صورتحال۔یعنی اسرائیل میں تحفظ نہیں اور کوئی دوسراملک صیہونی ریاست کے شہریوں کو بسانے پر تیارنہیں۔ ان حالات میں 1949 کا ایک جرمن قانون اسرائیلی یہودیوں کے لیے امید کی کرن ہے جو نازیوں کے متاثرین کے ورثاکو جرمن شہریت دیتا ہے ۔

2019 کے بعد سے جرمن شہریت کے لیے اسرائیلی درخواست دہندگان کی تعداد چار گنا بڑھی۔ خاص طور پر 7 اکتوبر 2023 کے بعد۔ان واقعات میں اتنابڑا نقصان پہنچاتھاجس کے بعد وہاںرہنا غیر محفوظ سمجھا جانے لگا۔ اب وہ ایک غیر یقینی دنیا میں لچک چاہتے ہیں، انہیں آپشنز چاہییں۔

امیگریشن ذرائع کے مطابق ،7 اکتوبر کے بعد نقل مکانی کی درخواستوں میںبڑا اضافہ ہوا۔ 2024 میں82ہزار700 اسرائیلیوں نے ملک چھوڑاتھا، جو ایک ریکارڈ تعداد ہے۔ادھر،دنیا بھر سے یہودی اب جرمنی میں مستقل طور پر آباد ہو رہے ہیں۔ لیکن بات اتنی سادہ نہیں ۔ نہ صرف یہ کہ مسئلہ پوری طرح حل نہیں ہوابلکہ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا جیسا بن گیا ہے۔
جرمنی میں ایک سیاسی تبدیلی آرہی ہے۔ٹائمزآف اسرائیل کے مطابق، AfD پارٹی جو تیزی سے اوپر جا رہی ہے ،وہ غیر ملکیوں کے خلاف نفرت کو عام کر رہی ہے۔یہ پارٹی 1945 کے بعد بنائے گئے شہری اصولوں کو بھی توڑ رہی ہے۔پہلے کہا جاتاتھا یہودیوں کے پاس اسرائیل ہے۔ لیکن اسرائیل سے تو وہ جارہے ہیں ۔جرمنی میں بسنے کی قانونی سہولت ہے لیکن مستقبل غیر یقینی،اور شکوک وشبہات کا شکار۔
کیا یہودی ایک بارپھر بے وطن ہونے والے ہیں؟