ترقیاتی بجٹ محدود وسائل کا شکار،جاری منصوبوں کی تکمیل کے لیے 10 ہزار ارب روپے درکار ہیں:احسن اقبال
وفاقی حکومت کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے کیونکہ بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے
اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کا ترقیاتی بجٹ گزشتہ آٹھ برسوں سے جمود کا شکار ہے جبکہ ملک میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے تقریباً 10 ہزار ارب روپے درکار ہیں۔
سالانہ پلان کوآرڈی نیشن کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے کیونکہ بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق وفاقی اور صوبائی ترقیاتی بجٹ کے درمیان فرق مسلسل بڑھ رہا ہے۔
احسن اقبال نے بتایا کہ حکومت کے پاس اس وقت 720 ارب روپے مالیت کے نئے ترقیاتی منصوبوں کی تجاویز موجود ہیں جبکہ تقریباً 5 ہزار ارب روپے کے منصوبوں کے پی سی ون پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق رواں مالی سال کے دوران پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے 1126 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، تاہم ترقیاتی ضروریات اس سے کہیں زیادہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاق کا ترقیاتی بجٹ تقریباً اسی سطح پر ہے جہاں یہ 2018 میں تھا، اور گزشتہ کئی برسوں سے یہ ایک ہزار ارب روپے کے قریب ہی برقرار ہے، جو ایک تشویشناک صورتحال ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ حکومت بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، اور آئندہ بجٹ میں صوبے کے لیے 100 ارب روپے کے منصوبے تجویز کیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ قومی شاہراہ N-25 کی تعمیر و بہتری کے لیے 25 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
انہوں نے کہا کہ مختلف وزارتوں کی مجموعی ترقیاتی ضروریات تقریباً 3 ہزار ارب روپے ہیں، تاہم محدود وسائل کے باعث تمام منصوبوں کی فوری تکمیل ممکن نہیں۔ حکومت دستیاب وسائل کو ترجیحی بنیادوں پر استعمال کرتے ہوئے اہم قومی منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔