صومالیہ میں10یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کے لیے حکومتی کوشش تیز
معاہدے کے تحت پانی کی روانی میں رکاوٹ ڈالنا بین الاقوامی قوانین اور طے شدہ معاہدوں کی خلاف ورزی تصور ہوگا
اسلام آباد، دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ صومالی قزاقوں کے قبضے میں موجود 10 پاکستانی شہریوں کی بحفاظت واپسی کے لیے حکومت مسلسل کوششیں کر رہی ہے اور اس سلسلے میں صومالی حکام سے رابطے جاری ہیں۔
ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے مختلف علاقائی اور بین الاقوامی امور پر پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں کی حفاظت اور واپسی کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم ہے۔
ترجمان نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے تحت پانی کی روانی میں رکاوٹ ڈالنا بین الاقوامی قوانین اور طے شدہ معاہدوں کی خلاف ورزی تصور ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس معاملے پر اپنے مؤقف پر قائم ہے اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب آپشنز محفوظ رکھتا ہے۔
ابراہم معاہدے کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور ملک بدستور ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ آزاد کشمیر کے رہائشی ذیشان کی بھارتی تحویل سے رہائی کے لیے بھی سفارتی سطح پر کوششیں جاری ہیں اور متعلقہ حکام سے رابطہ برقرار ہے۔