ایک قطرہ پانی بھی پاکستان نہ جانے دینےکا اشتعال انگیزبھارتی بیان
بہاؤ روکنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزیر آبی وسائل
15 مئی 2025 کی اس تصویر میں دریائے چناب پر بنے بگلیہار ڈیم کا ایک عمومی منظر
انڈین حکمران جماعت کے ایک وفاقی وزیر نے تصدیق کی ہے کہ انڈیا اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ ’پانی کا ایک قطرہ بھی‘ پاکستان نہ پہنچے۔
سینیئر انڈین وزیر نے کہا ہے کہ گذشتہ سال ایک بڑے آبی معاہدے کی معطلی کے بعد انڈیا اپنے ہمسایہ ملک پاکستان کی جانب پانی کے بہاؤ کو روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔
انڈیا نے گذشتہ سال کشمیر میں ہونے والے ایک حملے کے بعد، جس میں 26 اموات ہوئیں، پاکستان کے ساتھ 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا تھا۔
وفاقی وزیر برائے آبی وسائل سی آر پاٹل نے کہا کہ یہ فیصلہ اب بھی برقرار ہے اور پانی کے بہاؤ کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی ہدایت پر ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ پانی کا ایک قطرہ بھی پاکستان نہ جائے، جبکہ وزیر داخلہ امت شاہ بھی اس عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔
انڈیا اور پاکستان اس معاہدے کے فریق ہیں جو چھ دریاؤں کے پانی کے استعمال کو منظم کرتا ہے، جن میں تین دریا پاکستان اور تین انڈیا کے حصے میں آتے ہیں۔
عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت انڈیا کو سالانہ بڑی مقدار میں پانی پاکستان جانے دینا ہوتا ہے، جو پاکستان کی زراعت اور توانائی کے لیے اہم ہے۔
پاکستان نے انڈیا پر پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ انڈیا نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ معاہدہ معطل ہے۔
انڈیا نے کشمیر حملے کے بعد پاکستان کے ساتھ تعلقات مزید محدود کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے تک معاہدے میں شرکت معطل رہے گی۔