سعودی عرب نے ایران،امریکہ جنگ بندی کا کریڈٹ پاکستان کو دے دیا
امریکا اور ایران مذاکرات جمعہ سے، پاکستان اور قطر ثالثی کردار ادا
فائل فوٹو
سعودی عرب نے پاکستان اور قطر کو امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے کرانے میں مدد پر خراج تحسین پیش کیا ہے، جبکہ یہ معاہدہ اب اگلے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں دونوں فریقین کے درمیان مستقل تصفیے پر مذاکرات ہوں گے۔
سعودی کابینہ نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان فوجی کارروائیاں ختم کرنے اور تفصیلی مذاکرات شروع کرنے کے معاہدے کا خیرمقدم کیا، جس کا مقصد طویل المدتی سمجھوتہ حاصل کرنا ہے۔ یہ پیش رفت 28 فروری کو امریکی-اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہونے والی کئی ماہ کی لڑائی کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
سعودی کابینہ نے پاکستان اور قطر کی ثالثی کوششوں کا شکریہ ادا کیا اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی کی بحالی کی امید ظاہر کی۔ معاہدے کے بعد ایرانی تیل کی برآمدات دوبارہ شروع ہونے اور شپنگ سرگرمیوں میں بتدریج بحالی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جبکہ تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔
امریکا اور ایران کے درمیان جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں حتمی مذاکرات متوقع ہیں جن میں ایران کے جوہری پروگرام اور پابندیوں میں نرمی پر بات ہوگی۔ ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق اسرائیل کا جنوبی لبنان سے انخلا بھی پائیدار امن کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے۔ پاکستانی دفاعی حکام نے کہا کہ اگر یہ ثالثی نہ ہوتی تو مسلم دنیا میں ممکنہ تنازع پیدا ہو سکتا تھا، جبکہ پاکستان نے یہ عمل خاموش سفارت کاری کے ذریعے انجام دیا۔