بجٹ کی منظوری کا دوسرا مرحلہ آج سے شروع ہو گا
مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کے مالی مطالبات زر پر غور کیا جائے گا
قومی اسمبلی میں بجٹ کی منظوری کا دوسرا مرحلہ آج سے شروع ہو رہا ہے، جس کے دوران مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کے مالی مطالبات زر پر غور کیا جائے گا۔
اجلاس میں وزیر خزانہ 104 کھرب 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 135 مطالبات زر منظوری کے لیے پیش کریں گے، جبکہ 43 کھرب 85 ارب روپے سے زائد کے 88 مطالبات زر بغیر کسی کٹوتی کی تحاریک کے منظور کیے جانے کا امکان ہے۔
اپوزیشن کی جانب سے 60 کھرب 29 ارب روپے سے زائد کے 47 مطالبات زر پر مجموعی طور پر 587 کٹوتی کی تحاریک جمع کرائی گئی ہیں۔ اسی طرح کابینہ سیکرٹریٹ اور اس سے منسلک اداروں کے 19 مطالبات زر پر بھی 91 کٹوتی کی تحاریک پیش کی جائیں گی۔
توانائی ڈویژن کے 661 ارب 26 کروڑ روپے سے زائد کے چھ مطالبات زر پر 116 کٹوتی کی تحاریک شامل ہیں، جبکہ وزارت خزانہ کے 42 کھرب 82 ارب روپے سے زائد کے مطالبات پر 100 کٹوتی کی تحاریک دی گئی ہیں۔
وزارت داخلہ کے 74 ارب 35 کروڑ روپے سے زائد کے چار مطالبات زر پر 123 کٹوتی کی تحاریک پیش ہوں گی، جبکہ تخفیف غربت ڈویژن کے 859 ارب روپے سے زائد کے تین مطالبات پر 45 کٹوتی کی تحاریک شامل ہیں۔
اجلاس کے دوران حکومتی اراکین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی حاضری یقینی بنائیں تاکہ بجٹ کی منظوری کا عمل بروقت مکمل کیا جا سکے۔