آم صحت بخش ضرور،مگر حد سے زیادہ استعمال نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے

آم میں قدرتی مٹھاس کافی مقدار میں پائی جاتی ہے، اس لیے اسے زیادہ کھانے سے بعض افراد میں جلد کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں

June 23, 2026 · کائنات کے رنگ

گرمیوں کا موسم آتے ہی آم کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ذائقے اور غذائیت سے بھرپور یہ پھل دنیا بھر میں پسند کیا جاتا ہے، تاہم ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ آم کا ضرورت سے زیادہ استعمال بعض جسمانی مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق آم میں قدرتی مٹھاس کافی مقدار میں پائی جاتی ہے، اس لیے اسے زیادہ کھانے سے بعض افراد میں جلد کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ جسم میں شوگر کی زیادتی سوزش کو بڑھا سکتی ہے، جس کے نتیجے میں چہرے پر دانے یا کیل مہاسوں کی شکایت سامنے آ سکتی ہے۔

اسی طرح آم کا بے اعتدال استعمال وزن میں اضافے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص جسمانی سرگرمی کم کرتا ہو اور زیادہ مقدار میں آم کھائے تو اضافی کیلوریز چربی کی صورت میں جسم میں جمع ہو سکتی ہیں۔

ہاضمے کے حوالے سے بھی احتیاط ضروری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ضرورت سے زیادہ آم کھانے سے بعض افراد کو گیس، پیٹ پھولنے یا اسہال جیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، خصوصاً ان لوگوں کو جن کا نظامِ ہاضمہ حساس ہو۔

ذیابیطس یا انسولین مزاحمت کے شکار افراد کے لیے بھی آم محدود مقدار میں استعمال کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں موجود قدرتی شکر خون میں گلوکوز کی سطح کو متاثر کر سکتی ہے۔ ایسے افراد کو اپنی خوراک کے حوالے سے ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔

بعض افراد میں آم زیادہ کھانے سے سینے کی جلن یا تیزابیت کی شکایت بھی پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ دانتوں کی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ آم کھانے کے بعد منہ کی صفائی کا خاص خیال رکھا جائے تاکہ دانتوں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق آم غذائیت سے بھرپور اور صحت کے لیے فائدہ مند پھل ہے، لیکن اس کے فوائد حاصل کرنے کے لیے اعتدال ضروری ہے۔ متوازن مقدار میں آم کھانا صحت کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ ضرورت سے زیادہ استعمال مختلف طبی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔