امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات مکمل، چار مشترکہ ورکنگ گروپس کے قیام پر اتفاق
ان گروپس کا مقصد ابتدائی فریم ورک کو عملی شکل دینا اور اختلافی نکات پر تکنیکی سطح پر پیش رفت کو ممکن بنانا ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے امریکا اور ایران کے تکنیکی مذاکرات اختتام پذیر ہو گئے ہیں، جن میں دونوں ممالک نے آئندہ مرحلے کی پیش رفت کے لیے مختلف اہم شعبوں پر مشترکہ ورکنگ گروپس بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ اہم امور کو آگے بڑھانے کے لیے چار الگ الگ ورکنگ گروپس تشکیل دیے جائیں گے۔
ان کے مطابق پہلا گروپ اقتصادی پابندیوں کے خاتمے پر کام کرے گا، دوسرا جوہری معاملات سے متعلق ہوگا، تیسرا معاشی ترقی اور تعمیر نو کے امور دیکھے گا جبکہ چوتھا گروپ معاہدے پر عمل درآمد اور نگرانی کے معاملات کو آگے بڑھائے گا۔
ایرانی حکام کے مطابق ان گروپس کا مقصد ابتدائی فریم ورک کو عملی شکل دینا اور اختلافی نکات پر تکنیکی سطح پر پیش رفت کو ممکن بنانا ہے۔
ماہرین کے مطابق ان ورکنگ گروپس کی تشکیل اس بات کی علامت ہے کہ دونوں فریق مذاکراتی عمل کو صرف سیاسی بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اور تکنیکی سطح پر آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ خاص طور پر جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں کی واپسی اور اقتصادی تعاون جیسے معاملات آئندہ بات چیت میں مرکزی حیثیت اختیار کر سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ مفاہمتی عمل کے بعد امریکا اور ایران کے تعلقات میں بہتری کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم کئی حساس معاملات پر مزید مذاکرات اور اتفاق رائے درکار ہے۔