ایرانی ٹی وی نے اسپیکر باقر قالیباف کا انٹرویو بیچ میں روک دیا، افواہیں تیز
یہ پروگرام مقررہ وقت سے دو گھنٹے پہلے نشریاتی ادارے کو فراہم کر دیا گیا تھا، تاہم اسے دورانِ نشریات ہی روک دیا گیا۔
ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا وہ ٹی وی انٹرویو، جس میں وہ جنگ، آبنائے ہرمز اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات پر گفتگو کر رہے تھے، اچانک درمیان ہی میں روک دیا گیا۔ اس پر ایران کی مجلس کے میڈیا سینٹر نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس اقدام کے خلاف باقاعدہ احتجاج کیا ہے۔
پارلیمان کے میڈیا سینٹر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ رہبرِ اعلیٰ کی ہدایت کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں درج شرائط پر عملدرآمد کے سلسلے میں ڈاکٹر محمد باقر قالیباف، جو نہ صرف مقننہ کے سربراہ ہیں بلکہ ملک کے مذاکراتی وفد کی قیادت بھی کر رہے ہیں، نے ایرانی نشریاتی ادارے کے تعاون سے عوام کو ایک رپورٹ پیش کرنے کے لیے ٹیلی کانفرنس کی۔ یہ پروگرام مقررہ وقت سے دو گھنٹے پہلے نشریاتی ادارے کو فراہم کر دیا گیا تھا، تاہم اسے دورانِ نشریات ہی روک دیا گیا۔
بیان میں اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا گیا کہ یہ گفتگو پہلے سے ریکارڈ شدہ تھی اور اگر نشریاتی ادارہ اس کے کسی حصے کو نشر نہیں کرنا چاہتا تھا تو طریقہ کار کے مطابق مجلس کے میڈیا سینٹر سے مشاورت کی جا سکتی تھی، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔
مجلس کے میڈیا سینٹر کے مطابق انٹرویو کے وہ حصے نشر نہیں کیے گئے جن میں ایران کے جوہری مراکز کے معائنے سے متعلق بین الاقوامی ایجنسی کے دعوے کا جواب، منجمد اثاثوں کی رہائی سے متعلق پیش رفت، مفاہمتی متن میں 300 ارب ڈالر کے تعمیرِ نو کریڈٹ کی تفصیلات، ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر وضاحت اور 18 جون کو رہبرِ اعلیٰ کے سٹریٹیجک پیغام کی تشریح شامل تھی۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھی جانے والی فارس نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی نشریاتی ادارے کے مطابق اس انٹرویو کا دوسرا حصہ اگلے روز بدھ کی شب نشر کیا جائے گا، اور اس بارے میں پروگرام کے اختتام پر سب ٹائٹلز کے ذریعے ناظرین کو آگاہ بھی کیا گیا تھا۔
اسی دوران ایرانی نشریاتی ادارے کے ٹیلیگرام چینل نے انٹرویو کے مختلف حصے شائع کیے ہیں جن میں وہ مواد بھی شامل ہے جو براہِ راست نشریات کے دوران کاٹ دیا گیا تھا۔ ان میں ایک حصے میں محمد باقر قالیباف ایران کے تقریباً 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کے جاری ہونے کی وضاحت کرتے ہیں اور ساتھ ہی 2023 میں ایران اور جو بائیڈن انتظامیہ کے درمیان طے پانے والے چھ ارب ڈالر کے معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے ملک کے اندر ہونے والی تنقید کا جواب بھی دیتے ہیں۔