اسلام آباد میں مساج سینٹر پر چھاپہ، ڈپٹی کمشنر کی ٹیم کا رکن گرفتار
ایف آئی آر درج، اسسٹنٹ کمشنر نے سیل کیا گیا مساج سینٹر کھول دیا۔
فائل فوٹو
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر آئی ایٹ میں مبینہ غیر قانونی مساج سینٹر کو سیل کرنے والی ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی ٹیم کے ایک سرکاری ملازم کے خلاف پولیس نے ایف آئی آر درج کر لی ہے۔
یہ کیس اسلام آباد پولیس کے لیے انوکھا قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ مبینہ طور پر غیر قانونی سرگرمیوں والے سینٹر کو سیل کرنے والے کے خلاف ہی مقدمہ درج ہوا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق 20 جون 2026 کو شام تقریباً 9 بجے کے قریب ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے دفتر کی ٹیم نے سیکٹر آئی ایٹ میں ایک مبینہ غیر قانونی مساج سینٹر پر چھاپہ مارا۔ ٹیم نے سینٹر کو سیل کر دیا اور اسے غیر قانونی قرار دے دیا۔ ٹیم میں ڈپٹی کمشنر آفس سے منسلک سرکاری ملازمین شامل تھے، جن میں سے ایک ملازم کے خلاف بعد میں کارروائی ہوئی۔
شکایت کنندہ محمد وقار ولد محمد صدیق کی درخواست پر پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی۔ ایف آئی آر کے مطابق، ملزم (ڈپٹی کمشنر آفس کا سرکاری ملازم) نے دیگر ٹیم ممبران کے ہمراہ چھاپہ مار کر مساج سینٹر کو بند کرایا اور غیر قانونی قرار دیا۔ ایف آئی آر میں واقعہ کی تاریخ 20 جون 2026 اور متعلقہ تفصیلات درج ہیں۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد اسسٹنٹ کمشنر نے مبینہ مساج سینٹر کو دوبارہ کھول دیا۔مجسٹریٹ نے 20 تاریخ کو سیل کیا اور اے سی نے یکم جولائی کو مساج سینٹر ڈی سیل کر دیا۔
ایف آئی آر درج ہونے کے بعد ملزم سرکاری اہلکار کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور وہ حراست میں ہے۔ پولیس مزید تحقیقات کر رہی ہے۔
اسلام آباد میں غیر قانونی مساج سینٹرز کے خلاف کئی بار کارروائیاں ہو چکی ہیں، جن میں اکثر غیر اخلاقی سرگرمیوں کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ تاہم، اس کیس میں الٹا سیل کرنے والے ٹیم ممبر کے خلاف مقدمہ درج ہونا سوالات اٹھا رہا ہے۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد آفس اور پولیس کی جانب سے اس معاملے پر کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے۔