انسانی پلیسینٹا ویتنام اسمگل کرنے کی کوشش ناکام، اسلام آباد ایئرپورٹ پر 580 کلو گرام کھیپ پکڑ لی گئی

مختلف ہسپتالوں سے ماہانہ 200 کلو گرام پلیسینٹا اکٹھا کرنے کا انکشاف؛ اینٹی ایجنگ انجکشنز کی تیاری میں استعمال، قیمت 7 لاکھ روپے تک،5 ملزمان ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

July 2, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے انسانی پلیسینٹا (آنول) کی 580 کلو گرام وزنی کھیپ ویتنام اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔

ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ اس انسانی پلیسینٹا سے انتہائی مہنگے اینٹی ایجنگ (بڑھتی عمر کے اثرات روکنے والے) انجکشن تیار کیے جاتے تھے، جن کی پاکستانی مارکیٹ میں قیمت 7 لاکھ روپے تک ہے۔

ایف آئی اے کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دورانِ تفتیش یہ سنسنی خیز معلومات سامنے آئی ہیں کہ ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے مختلف ہسپتالوں سے ہر ماہ تقریباً 200 کلو گرام انسانی پلیسینٹا اکٹھا کیا جاتا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس گھناؤنے کاروبار اور اسمگلنگ کے کیس میں بعض کسٹمز اہلکاروں کے ممکنہ ملوث ہونے کے پہلو کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تفتیشی ٹیم دستیاب شواہد کی بنیاد پر اس نیٹ ورک سے وابستہ دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے کارروائی آگے بڑھا رہی ہے۔

دوسری جانب، اسلام آباد کی مقامی عدالت میں انسانی اعضا کی مبینہ غیر قانونی خرید و فروخت اور اسمگلنگ کے مقدمے میں گرفتار 5 ملزمان کو پیش کیا گیا۔ سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان 30 کارٹنوں پر مشتمل پلیسینٹا کی بھاری کھیپ ویتنام بھجوانے کی کوشش کر رہے تھے، جس کا کل وزن تقریباً 580 کلو گرام ہے۔

ایف آئی اے نے مزید تانے بانے بے نقاب کرنے اور گہرائی سے تفتیش کے لیے عدالت سے ملزمان کے 7 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔ تاہم، عدالت نے ایف آئی اے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ملزمان کا صرف ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا اور حکم دیا کہ ملزمان کو جمعے کے روز دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔