شاہ عبداللطیف یونیورسٹی : 1200 سے زائد مشتبہ ایل ایل بی اسناد منسوخ کرنے کا فیصلہ، نامور قانون دان بھی زد میں
وائس چانسلر ڈاکٹر یوسف خشک کا بڑا ایکشن: متعدد افسران معطل، ایف آئی آرز درج
فائل فوٹو
خیر پور: شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور نے بدعنوانی کو ختم کرنے اور شفافیت و احتساب کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے ملحقہ لاء کالجز کی 1200 سے زائد ایل ایل بی کی مشتبہ اسناد منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں ملک کے نامور قانون دان بھی شامل ہیں اور ان کی باقاعدہ اسناد کی منسوخی کا عوامی نوٹس بھی جاری کیا جارہا ہے۔
شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کے اس اقدام کو جامعہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اعلیٰ تعلیم کے نظام میں قانون کی بالادستی، احتساب اور ادارہ جاتی اصلاحات کی ایک اہم مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر یوسف خشک کی قیادت میں سینئر پروفیسرز اور سینئر افسران پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم نے گزشتہ 2 برس کے دوران جامعہ میں شفافیت، احتساب، قانون کی بالادستی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے متعدد مؤثر اقدامات کیے ہیں۔
ان ہی مسلسل اور منظم کوششوں کے نتیجے میں ریکارڈ کی جامع جانچ، قانونی تقاضوں کی تکمیل اور سنڈیکیٹ کے فیصلوں کی روشنی میں یہ تاریخی کارروائی اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوئی، جس کے بعد یہ معاملہ سنڈیکیٹ کے 92ویں اجلاس میں منظور کیا گیا۔
فیصلوں کی روشنی میں قائم تحقیقاتی کمیٹی نے یونیورسٹی اور متعلقہ ملحقہ لا کالجز کے ریکارڈ کی تفصیلی جانچ، تصدیق اور موازنہ مکمل کیا۔ تحقیقات کے دوران مشتبہ ریکارڈز کی نشاندہی کی گئی جبکہ متعدد متعلقہ کالجز نے بھی ایسے اندراجات سے لاتعلقی ظاہر کی۔
سنڈیکیٹ کی منظوری سے اسناد کی منسوخی کی کارروائی کو آگے بڑھایا گیا۔ یہ موجودہ انتظامیہ کی اصلاحاتی مہم کا تیسرا بڑا مرحلہ ہے۔
پہلے مرحلے میں مبینہ جعلی ریکارڈ کے معاملات پر 128 افراد کے خلاف ایف آئی آرز درج کروائی گئیں جبکہ دوسرے مرحلے میں اس معاملے سے متعلق 8 سے زائد افسران کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے انہیں معطل کیا گیا اور ان کے جامعہ میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی۔
اب تیسرے مرحلے میں مختلف ملحقہ لاء کالجز سے تعلق رکھنے والے 1200 سے زائد مشتبہ ایل ایل بی ڈگری ریکارڈز کے حوالے سے آخری عوامی نوٹس جاری کیا جارہا ہے، جس کے تحت متعلقہ امیدواروں کو 15 روز کے اندر اپنے دعوے کے حق میں مستند دستاویزی ثبوت پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، بصورت دیگر متعلقہ ڈگریاں اور نتائج منسوخ کردیے جائیں گے۔
جامعہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے اس عوامی نوٹس کا مقصد تمام متعلقہ افراد کو قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق حقِ سماعت فراہم کرنا ہے تاکہ اگر کسی امیدوار کے پاس اپنے دعوے کے حق میں قابلِ قبول دستاویزی ثبوت موجود ہوں گے تو وہ مقررہ مدت کے اندر پیش کر سکے گا۔
مقررہ مدت گزرنے کے بعد قانون، ضابطوں اور سنڈیکیٹ کے فیصلوں کے مطابق حتمی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق سندھ کی تلاش کمیٹی نے میرٹ پر ڈاکٹر یوسف خشک کا انتخاب کیا تھا اور ان کی تعیناتی کے بعد ان کی جانب سے سخت اقدامات کے باعث جعلی اسناد کا اسکینڈل منظر عام پر آیا جس کے نتیجے میں جامعہ کی ساکھ بحال ہو پائی۔