سوشل میڈیا کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی قیمت پر فروغ نہیں دیں گے، عطاء اللہ تارڑ

ایڈورٹائزمنٹ پالیسی 2024 کے تحت اخبارات کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو مزید سہولتیں فراہم کی جائیں گی

July 15, 2026 · قومی

اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سرمد علی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی سیکریٹری اطلاعات اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ڈیجیٹل میڈیا، سوشل میڈیا، اشتہاری پالیسی، پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا، پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان اور نیشنل پریس ٹرسٹ سمیت مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ڈیجیٹل میڈیا کی اہمیت سے انکار نہیں کرتی، تاہم پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی قیمت پر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو فروغ نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کو مواد فراہم کرنے میں اخبارات اور ٹیلی ویژن بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے روایتی میڈیا کے استحکام کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا سے متعلق 2021 کی پالیسی میں 2022 کے دوران ترامیم کی گئیں، جبکہ ایڈورٹائزمنٹ پالیسی 2024 کے تحت گوگل اینالیٹکس، ویب گرافکس، تھرڈ پارٹی ویری فکیشن اور دیگر جدید نظام شامل کیے گئے ہیں تاکہ اشتہارات کی تقسیم شفاف اور مؤثر انداز میں کی جا سکے۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح میڈیا ملازمین کی فلاح و بہبود ہے۔ ان کے مطابق حکومت میڈیا اداروں کو اشتہارات جاری کرتے وقت اس بات کو بھی مدنظر رکھتی ہے کہ ملازمین کے حقوق اور واجبات کی ادائیگی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے ساتھ ایک طریقہ کار طے کیا گیا ہے، جس کے تحت حکومتی واجبات کی ادائیگی کے ساتھ میڈیا ہاؤسز اپنے ملازمین کے بقایا جات بھی ادا کریں گے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ بعض میڈیا اداروں میں ملازمین کی برطرفیوں پر حکومت نے سنجیدگی سے نوٹس لیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک نجی ٹی وی چینل میں ملازمین کی برطرفی کے بعد حکومتی اشتہارات روک دیے گئے تھے، جبکہ انتظامیہ سے مذاکرات کے بعد متعدد ملازمین کو دوبارہ بحال کیا گیا۔

اجلاس میں ریجنل اخبارات کی مشکلات بھی زیر بحث آئیں، جس پر وفاقی وزیر اطلاعات نے پی آئی ڈی کے تحت ایک ذیلی کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت دی جو علاقائی اخبارات کی سرکولیشن اور دیگر مسائل کا جائزہ لے کر سفارشات پیش کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ اخبارات کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو مزید سپورٹ فراہم کی جائے گی۔

عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ آڈٹ بیورو آف سرکولیشن (اے بی سی) میں اصلاحات کا عمل جاری ہے اور اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے بی سی اور رجسٹرار آفس کو ضم کر کے ایک مربوط اور شفاف ادارہ قائم کیا جائے گا۔

اجلاس کے دوران بلھے شاہؒ کی شخصیت پر بننے والی فلم کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایسی تاریخی اور روحانی شخصیات کے نام کے استعمال کے حوالے سے قواعد و ضوابط کا جائزہ لیا جانا چاہیے، جبکہ سینیٹر پرویز رشید نے فلم کی منظوری کے عمل کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

پی ٹی وی کی کارکردگی پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان ٹیلی وژن پہلی مرتبہ مالی طور پر مستحکم ادارہ بن چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فیفا ورلڈ کپ کی نشریات اس وقت صرف پی ٹی وی اسپورٹس پر نشر کی جا رہی ہیں اور ادارے میں ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا گیا ہے۔

وفاقی سیکریٹری اطلاعات نے کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران کسی بھی ملازم کی تنخواہ یا پنشن میں تاخیر نہیں ہوئی، جبکہ اخراجات میں کمی کر کے تقریباً 300 ریٹائرڈ ملازمین، خصوصاً بیواؤں کو باقاعدگی سے ادائیگیاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ رواں برس پی ٹی وی اپنی پروڈکشن دوبارہ شروع کرے گا اور ادارے کی مختلف عمارتوں سے ریونیو بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اجلاس میں کمیٹی ارکان نے پرنٹ میڈیا کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اخبارات کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر سرمد علی نے کہا کہ میڈیا لسٹ میں بہتری لانے اور پرنٹ میڈیا کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، جبکہ اے پی پی اور ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کے مسائل کے حل کے لیے بھی متعلقہ اداروں سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی گئی۔