جنسی مجرم کوقبول کرنے کے بدلے پاکستان نے برطانیہ سے شہزاد اکبر اور عادل راجا کو مانگ لیا

ذرائع کا دعویٰ۔ برطانوی اخبار ٹائمز کی رپورٹ

July 16, 2026 · امت خاص

فائل فوٹوز

 

پاکستان نے روچڈیل گرومنگ گینگ کے سرغنہ شبیراحمد کو واپس لینے کے لیے برطانوی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی خودمختار ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ کس فرد کو قبول کرنا ہے اور کس کو نہیں۔برطانوی اخبار’’دی ٹائمز‘‘ کے مطابق پاکستان کی وزارتِ داخلہ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ برطانیہ اس معاملے میں پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے مؤثر ذرائع نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک خودمختار ملک ہے اور کوئی غیر ملکی حکومت اسے یہ حکم نہیں دے سکتی کہ وہ کسی مخصوص شخص کو اپنے ہاں قبول کرے۔تاہم ،ایک ذریعے کا کہناہے کہ اس کے بدلے برطانیہ میں مقیم شہزاداکبر اور عادل راجا کی حوالگی کا مطالبہ کیا گیاہے۔

برطانیہ کی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے اعلان کیا تھا کہ وہ قانون میں ترمیم کرکے اس قانونی رکاوٹ کو ختم کریں گی جس کی وجہ سے شبیراحمد کو برطانیہ سے بے دخل نہیں کیا جا سکا۔ تاہم قانونی ترمیم کے باوجود برطانوی حکومت کو انہیں پاکستان بھیجنے کے لیے اسلام آباد کی رضامندی درکار ہوگی۔

شبیراحمد اس ماہ اپنی سزا مکمل کرنے کے بعد جیل سے رہا ہو چکے ہیں اور اس وقت شمالی انگلینڈ میں مقیم ہیں۔

برطانوی حکومت امیگریشن ایکٹ 1971 کی وہ شق ختم کرنا چاہتی ہے جو 1973 سے قبل برطانیہ آنے والے اور کم از کم پانچ برس وہاں رہنے والے دولتِ مشترکہ کے شہریوں کو ملک بدری سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ شبیراحمد 1967 میں، 14 برس کی عمر میں، پاکستان سے برطانیہ منتقل ہوئے تھے، اسی لیے وہ اس قانونی تحفظ سے فائدہ اٹھاتے رہے۔

رپورٹ کے مطابق برطانوی حکومت پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے، جن میں پاکستانی شہریوں کے لیے ویزوں کا اجرا محدود کرنا، مالی پابندیاں عائد کرنا یا پاکستان کو دی جانے والی سالانہ تقریباً 5 کروڑ پاؤنڈ کی امداد کے ایک حصے کو روکنا شامل ہے۔ دوسری جانب یہ تجویز بھی زیرِ غور ہے کہ اضافی امداد، سرمایہ کاری یا دیگر مالی مراعات کے ذریعے پاکستان کو تعاون پر آمادہ کیا جائے۔

برطانوی وزیرِ خارجہ ایویٹ کوپر نے حال ہی میں کہا تھا کہ حکومت اس مقصد کے لیے تمام ممکنہ ذرائع پر غور کر رہی ہے۔پاکستانی وزارتِ داخلہ کے عہدیدار نے تاہم اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کی مالی امداد براہِ راست پاکستانی حکومت کو نہیں ملتی، اس لیے اسے دباؤ کے مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے سفارتی ذرائع سے برطانیہ کو آگاہ کر دیا ہے کہ شبیراحمد نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ برطانیہ میں گزارا ہے اور وہ پاکستانی شہریت بھی ترک کر چکے ہیں، اس لیے پاکستان انہیں واپس لینے کا خود کو پابند نہیں سمجھتا۔

چیتھم ہاؤس سے وابستہ پاکستانی امور کی ماہر ڈاکٹر فرزانہ شیخ کے مطابق اگرچہ پاکستان نے باضابطہ طور پر شبیراحمد کو واپس لینے سے انکار کیا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان پسِ پردہ رابطے جاری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان مبینہ طور پر شبیراحمد کے بدلے برطانیہ میں مقیم دو پاکستانی حکومت مخالف شخصیات کی واپسی چاہتا ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان دونوں افراد میں سابق وزیراعظم عمران خان کے دورِ حکومت کے سابق مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر اور سابق فوجی افسر و صحافی عادل راجا شامل ہیں، جن پر پاکستان میں جھوٹی خبریں اور حکومت مخالف پروپیگنڈا پھیلانے کے الزامات عائد کیے جا چکے ہیں۔

ادھر برطانوی حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ شبیراحمد کے بدلے سیاسی مخالفین کے تبادلے کی کسی بھی تجویز پر اتفاق ہونے کا امکان نہایت کم ہے۔

واضح رہے کہ برطانیہ 2020 میں ملک بدری کے احکامات جاری ہونے کے باوجود گرومنگ گینگ کے دو دیگر مرکزی ملزمان کو بھی پاکستان واپس بھیجنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔