پیٹرولیم قیمتوں کا تعین روزانہ ہوگا،حکومت۔پمپ اونرز نے پالیسی مسترد کردی،ہڑتال کی دھمکی

حکومت کا یومیہ قیمتوں کے نظام کا فیصلہ،ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کےخلاف کارروائی ہوگی

July 17, 2026 · قومی

فائل فوٹو

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ وزیراعظم اور وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کرے گی اور عالمی منڈی میں جتنا اتار چڑھاؤ ہوگا، وہ عوام کو منتقل کیا جائے گا۔

وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں کشیدگی کے باعث ایک بار پھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں توانائی کی قیمتیں بڑھنا شروع ہو گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں ایک بار پھر جنگ کے آثار نظر آ رہے ہیں، گزشتہ چند روز کے دوران عالمی منڈی میں ڈیزل کی قیمت 110 ڈالر سے بڑھ کر 140 ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت عوام کی مشکلات سے آگاہ ہے اور عوام کے تحمل پر ان کی شکر گزار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹارگٹڈ سبسڈی کا پروگرام جاری ہے اور عوام پر کسی قسم کا اضافی بوجھ نہیں ڈالا گیا، جبکہ پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی بھی بدستور جاری ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کے شعبے کو ڈی ریگولیشن کی طرف لے جا رہی ہے۔ کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اوگرا روزانہ عالمی منڈی کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتوں کا تعین کرے گی اور نئی قیمتیں روزانہ اپنی ویب سائٹ پر جاری کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی اور کاربن سپورٹ لیوی کی سطح پہلے سے کم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم اور وفاقی حکومت نے 130 ارب روپے کے وسائل استعمال کرکے عوام کو سہارا دینے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئل سیکٹر میں ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

علی پرویز ملک نے بتایا کہ عوام کو مسابقتی قیمت پر تیل کی فراہمی کے لیے کام کیا جا رہا ہے اور ملک کے انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کو بہتر انداز میں آگے لے کر جائے گی، جبکہ تاریخ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خدمات کو سنہرے الفاظ میں یاد رکھے گی۔

اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف ممالک سے کارگو منگوا کر توانائی کی ضروریات پوری کی گئیں اور حکومتی پالیسی کے باعث ملک میں توانائی کی قلت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

عطا تارڑ نے کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو کھلی چھوٹ حاصل نہیں، ان پر سخت نگرانی کی جا رہی ہے اور کسی کو بھی ذخیرہ اندوزی یا اضافی منافع خوری کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور عالمی برادری ان کوششوں کو تسلیم کرتی ہے۔ ان کے مطابق جب کشیدگی اپنے عروج پر تھی تو دنیا بھر میں تیل کی قلت پیدا ہو گئی تھی، تاہم حکومت نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے پاکستان میں اضافی ذخائر کا بندوبست کیا۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عالمی منڈی کے مطابق فوری ردوبدل کا نظام رائج ہے، تاہم حکومت اس امر کو یقینی بنائے گی کہ کسی کو اضافی منافع کمانے یا ذخیرہ اندوزی کی اجازت نہ ملے۔

آل پاکستان پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے نئی پٹرولیم پرائس ڈی ریگولیشن پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے ہڑتال کی دھمکی دے دی۔ چیئرمین نعمان علی بٹ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مجوزہ پٹرولیم پرائس ڈی ریگولیشن پالیسی مسترد کرتے ہیں۔ اگر فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو آئندہ ہفتے احتجاج اور ہڑتال پر غور کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے اور مسائل کا بوجھ پٹرول پمپ مالکان پر نہ ڈالا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کے ساتھ ریٹ طے کرنے سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے، کیونکہ ملک بھر کے تقریباً 15 ہزار پٹرول پمپ مالکان شدید تحفظات کا شکار ہیں۔

نعمان علی بٹ نے کہا کہ نئی پالیسی سے آئل ٹینکرز، ٹرانسپورٹیشن اور قیمتوں کے تعین کا نظام متاثر ہوگا، لہٰذا حکومت یک طرفہ فیصلوں کے بجائے پٹرول پمپ مالکان سے مشاورت کرے۔