ریاست پاکستان آبنائےہرمز کھلوا سکتی ہےتو کمشیر بند ہے اسےبھی کھلوائے:بلاول بھٹو
آزاد کشمیر کے عوام کو مشکلات سے نکالنے اور راستے کھولنے کا مطالبہ
آزاد کشمیر میں احتجاج کرنے والے غلط ہوں گے لیکن سزا پورے کشمیر کو مل رہی ہے، چیئرمین پیپلزپارٹی/ فوٹو: سوشل میڈیا
چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر ریاست پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان امن قائم کرا کے آبنائے ہرمز کھلوا سکتی ہے تو بند کشمیر کو بھی کھلوائے۔
آزاد کشمیر کی تحصیل ڈڈیال میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ آزاد کشمیر کی تاریخ کے اہم ترین انتخابات ہیں اور یہ ریاست پاکستان کے لیے بھی ایک امتحان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح کشمیر کے عوام کی آواز دنیا تک پہنچنی چاہیے تھی، سیاستدان وہ کردار ادا نہیں کر سکے، جبکہ سیاسی بحران پیدا ہونے پر غیر جمہوری قوتیں سامنے آ جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ہر کشمیری اور ہر پاکستانی پریشان ہے۔ بے نظیر بھٹو نے سکھایا تھا کہ جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرے گا وہاں ہمارا خون گرے گا، اور ہم سمجھتے ہیں کہ آزاد کشمیر کے عوام کے تمام مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ احتجاج کرنے والوں نے انہیں خط لکھا، جس پر انہوں نے ٹروتھ اینڈ ری کنسلیشن کمیشن قائم کرنے کی تجویز دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ کمیشن قائم کیا جائے تو وہ احتجاج کرنے والوں سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کریں گے، تاہم ان کی تجویز پر تاحال کوئی جواب نہیں ملا۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں احتجاج کرنے والے غلط ہو سکتے ہیں، لیکن سزا پورے کشمیر کو دی جا رہی ہے۔ جس نے غلطی کی ہے اسے پکڑا جائے اور سزا دی جائے، چند افراد کے جرم کی سزا تمام کشمیریوں کو کیوں دی جا رہی ہے؟
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں عام کشمیریوں کو کاروبار اور معمولات زندگی میں کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر ریاست پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان امن قائم کر کے آبنائے ہرمز کھلوا سکتی ہے تو بند کشمیر کو بھی کھلوائے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ انہوں نے نریندر مودی کو “گجرات کا قصائی” کہا تھا، جس پر بھارت نے ان کے سر کی قیمت مقرر کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی زمین پر بھارت کے قبضے کی کوشش کو ناکام بنائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مہاجرین کی نشستوں اور ووٹ کا فیصلہ آئین ساز ادارے کریں گے۔ ان کے بقول دو بڑی جماعتیں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) ہیں، اب فیصلہ عوام نے کرنا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دوسری جماعت راولاکوٹ، کوٹلی اور میرپور کو کشمیر کا حصہ ہی نہیں مانتی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کو وضاحت کرنی چاہیے کہ آیا وفاقی حکومت کی پالیسی وہی ہے جو وزیر دفاع بیان کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک وفاقی وزیر یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ کشمیر کی 12 نشستیں ان کی جیب میں ہیں، اگر یہی سوچ ہو گی تو انہیں اس بات کی کوئی پروا نہیں ہوگی کہ کوٹلی اور راولاکوٹ سے کون کامیاب ہوتا ہے۔