اقوام متحدہ نے آزاد کشمیر میں مظاہروں کے دوران اموات کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا

جون سے اب تک پرتشدد واقعات میں کم از کم 31 افرادہلاک،الجزیرہ

July 17, 2026 · اہم خبریں

 

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں جاری مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی فوری، شفاف اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

وولکر نے دونوں فریقوں سے فوری طور پر پر امن رویہ اپنانے اور علاقائی خودمختاری اور معاشی مسائل جیسے بنیادی مسائل پر جامع سیاسی مکالمے کا مطالبہ کیا ہے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے الجزیرہ کے مطابق،جون سے اب تک پرتشدد واقعات میں کم از کم 31 افرادہلاک ہو چکے ہیں، جن میں عام شہری اور سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔

یہ تحریک جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت میں شروع ہوئی تھی، جو ابتدائی طور پر مہنگائی، بجلی اور دیگر یوٹیلیٹی ٹیرف کے خلاف تھی۔ تاہم موجودہ تنازع کا مرکز کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص قانون ساز نشستوں پر ہے۔ جے اے اے سی ان نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے، الزام ہے کہ یہ غیر مقامی افراد کو مقامی سیاست پر اثر انداز ہونے کا موقع دیتی ہیں۔

پاکستان نے جے اے اے سی پر پابندی لگا دی ہے، جس پر اقوام متحدہ نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ امن پسندانہ احتجاج کو دہشت گردی کے قوانین کے تحت کچلنا اور انٹرنیٹ سروسز بند کرنا آزادی اظہار اور اجتماع کے حق کی خلاف ورزی ہے۔