الطاف کیخلاف ریاست مخالف نعرے بازی کیس دوبارہ کھل گیا
5 ملزم گرفتار ،ملزم پیش- جسمانی ریمانڈ منظور- خالد مقبول- فاروق ستار ودیگر رہنمائوں سمیت 1200 نامعلوم افراد کے نام بھی شامل
کراچی (رپورٹ : سید حسن شاہ) بانی متحدہ الطاف حسین کے خلاف 10 سال پرانا کیس دوبارہ کھل گیا ہے۔ بریگیڈ پولیس نے حکومت اور ریاست مخالف نعرے بازی سے متعلق کیس میں 5 ملزمان کو گرفتار کر کے انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کر دیا۔ پولیس کی جانب سے اپنی نئی رپورٹ میں متحدہ بانی الطاف حسین ، موجودہ چیئر مین خالد مقبول صدیقی ، ڈاکٹر فاروق ستار، دیگر رہنماؤں سمیت ہزار سے نامعلوم افراد کے نام شامل کئے گئے ہیں۔
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے گرفتار 5 ملزمان سید حمید پاشا محمد حسین محمد عمر ، مزاو سیم اور آفاق عالم کو 23 جولائی تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ عدالت نے تفتیشی افسر سے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔ تفصیلات کے مطابق بانی متحدہ الطاف حسین کے خلاف 10 سال پرانا مقدمہ دوبارہ کھل گیا ہے۔
اس حوالے سے انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے حکومت اور ریاست مخالف نعرے بازی سے متعلق مقدمہ میں گرفتار 5 ملزمان سید حمید پاشا، محمد تحسین، محمد عمر ، مرز وسیم اور آفاق عالم کو پیش کیا گیا۔ اس موقع پر تفتیشی افسر کی جانب سے ریمانڈ رپورٹ جمع کرائی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 12 مئی 2016 کو تھا نہ بریگیڈ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مقدمہ میں بتایا گیا تھا کہ ایم کیو ایم لندن کے رہنماؤں کی جانب سے حکومت کی اجازت کے بغیر مزار قائد کے سامنے شاہراہ قائدین کو بند کر دیا گیا تھا اور حکومت و ریاست کے خلاف نعرے بازی کی گئی تھی جس پر اشتعال انگیزی پھیلنے کامکمل اندیشہ تھا ، اس دوران مرکزی رہنما وسیم اختر گرفتار ہوئے تھے جبکہ نامزد و دیگر ایک ہزار سے 1200 نامعلوم ورکرز موقع سے فرار ہو گئے تھے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ مخبر خاص کی اطلاع پر 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے، گرفتار ملزمان سے تفتیش کر کے دیگر شریک ملزمان کی معلومات کرنی ہے۔
ان کی گرفتاری عمل میں لانی ہے۔ ملزمان کا سابقہ ریکارڈ معلوم کرنا باقی ہے، ملزمان کا سی آراد بھی کرانا باقی ہے جبکہ ملزمان کی شناخت پریڈ بھی کرانی ہے۔ رپورٹ میں گرفتار 5 ملزمان کے علاوہ متحدہ بانی الطاف حسین ، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار، وسیم اختر، رؤف صدیقی، قمر منصور، کنور نوید جمیل، عرفان خان محمود رزاق محمود حسین سمیت ایک ہزار سے 1200 نامعلوم افراد کے نام بھی شامل کئے گئے ہیں ۔ دوران سماعت تفتیشی افسر کی جانب سے یکم اگست تک گرفتار 5 ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔
تفتیشی افسر کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزمان کے ساتھیوں کو گرفتار کرنا ہے اور شناخت پریڈ کرانی ہے ملزمان نے 12 مئی 2016 کو مزار قائد کے قریب شاہراع قائدین کو زبردستی بند کیا، ملزمان نے حکومت اور ریاست کے خلاف نعرے بازی کی تھی۔ عدالت نے گرفتار 5 ملزمان سید حمید پاشا محمد حسین محمد عمر، مزاو سیم اور آفاق عالم کو 23 جولائی تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ عدالت نے تفتیشی افسر سے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔