اسلام آبادمیں صفائی کے لیےسب سے کم بولی دینے والی ترک کمپنی نااہل قرار۔تحقیقات پر فیصلہ واپس

شکایت درج ہونے کے بعد چیئرمین سی ڈی اے کی مداخلت پر ازالہ

July 24, 2026 · امت خاص

 

کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) نے مالیاتی بولیاں (financial bids) کھولنے کے بعد اسلام آباد بھر میں صفائی ستھرائی اور کچرا اٹھانے کی خدمات آؤٹ سورس کرنے کی تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔تاہم، ترک کمپنی کو ٹیکنیکل بولی کی جانچ پڑتال کے عمل کے دوران سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے کے باوجوتکنیکی وجوہات کی بناپرنااہل قرار دے دیا گیا تھا۔ جس کے نتیجے میں دوسرا جوائنٹ وینچر ریس میں اکیلا رہ گیا۔تاہم، ذرائع کا کہنا ہے کہ جب یہ معاملہ سی ڈی اے کے چیئرمین سہیل اشرف کے علم میں لایا گیا تو انہوں نے اس بارے میں دریافت کیا۔

ترک کمپنی نے موقف اختیار کیا کہ سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے کے باوجود سی ڈی اے نے اسے طے شدہ قوانین کے خلاف ریس سے باہر کر دیا۔ کمپنی کو ٹیکنیکل بولی کے ساتھ ایک دستاویز جمع نہ کرانے پر نااہل قرار دیا گیا تھا، جو کہ کمپنی کے مطابق مالیاتی بولی (financial bid) کے ساتھ پہلے ہی منسلک تھی، اور دونوں بولیاں ایک ہی دن جمع کرائی گئی تھیں

ذرائع کے مطابق سی ڈی اے چیف نے پوچھا کہ کس قانون کے تحت کمپنی کونااہل کیا گیا حالاں کہ مطلوبہ دستاویز مالیاتی بولی کے ساتھ پہلے ہی سی ڈی اے کی تحویل میں موجود تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ ترک کمپنی نے اس پر شکایت درج کرائی، اور بالآخر شکایات کے ازالے کی کمیٹی (GRC) نے کمپنی کو اہل قرار دے دیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اٹلس پاک ویسٹ مینجمنٹ کمپنی اور ایک دوسرا جوائنٹ وینچر جس میں این جے سی، ایم ایم سی اور امپیریل وینچر شامل ہیں، فائنل ریس میں تھے۔ ترک کمپنی اٹلس پاک نے دیہی اور شہری دونوں پیکجز کے لیے سب سے کم بولی جمع کرائی۔ 16 ارب روپے کے اس منصوبے کے تحت سی ڈی اے چار سال کی مدت کے لیے اسلام آباد بھر میں کچرا جمع کرنے، کچرے کو راولپنڈی کے لوہسر لینڈ فل سائٹ تک پہنچانے اور صفائی ستھرائی کے انتظامات کو آؤٹ سورس کرے گا۔

سی ڈی اے حکام نے بتایا کہ ترک کمپنی نے سب سے کم بولی جمع کرائی۔ بولیاں جمع کرانے کے عمل میں شامل ایک افسر نے بتایاکہ دونوں بولیوں میں38 کروڑروپے کا فرق تھا۔

سب سے کم بولی اب مشیر (کنسلٹنٹ) کو بھیجی جائے گی اور کاغذی کارروائی مکمل ہونے کے بعد باقاعدہ طور پر چار سال کے لیے ٹھیکہ دے دیا جائے گا۔