صدر اور وزیراعظم کا 2030 تک ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ

ہیپاٹائٹس ایک ایسی بیماری ہے جس کی بروقت تشخیص، مؤثر علاج اور احتیاطی تدابیر کے ذریعے روک تھام ممکن ہے

July 28, 2026 · اہم خبریں

 اسلام آباد: عالمی یومِ ہیپاٹائٹس کے موقع پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے الگ الگ پیغامات میں ملک سے ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان 2030 تک اس بیماری کو عوامی صحت کے لیے خطرہ بننے سے روکنے کے عالمی ہدف کے حصول کے لیے بھرپور اقدامات جاری رکھے گا۔

صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ ہیپاٹائٹس ایک ایسی بیماری ہے جس کی بروقت تشخیص، مؤثر علاج اور احتیاطی تدابیر کے ذریعے روک تھام ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہیپاٹائٹس سی سے متاثرہ ممالک میں شامل ہے، اس لیے اس بیماری کے خلاف قومی سطح پر مربوط حکمت عملی، عوامی شعور اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

صدرِ مملکت نے زور دیا کہ غیر محفوظ طبی طریقوں، آلودہ آلات کے استعمال اور غیر معیاری طبی و تجارتی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے قوانین پر سختی سے عمل درآمد ضروری ہے۔ ان کے مطابق عوام میں آگاہی پیدا کرنا اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بیماری کے خاتمے میں بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ حکومت ہیپاٹائٹس سی کے خلاف قومی مہم کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم قومی پروگرام برائے انسداد ہیپاٹائٹس سی کے تحت ملک بھر میں شہریوں کو مفت اسکریننگ، تشخیصی ٹیسٹ اور علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مریضوں کو بروقت علاج میسر آ سکے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے غیر معیاری سرنجوں کی تیاری، تقسیم اور دوبارہ استعمال کے خلاف سخت اقدامات کیے ہیں، جبکہ ہسپتالوں اور طبی مراکز میں انفیکشن سے بچاؤ کے اصولوں پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غفلت یا قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی جاری ہے۔

شہباز شریف نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ہیپاٹائٹس سی کی بروقت اسکریننگ کرائیں، اپنے اہلِ خانہ اور قریبی افراد کو بھی ٹیسٹ کروانے کی ترغیب دیں اور محفوظ طبی طریقہ کار کو اپنائیں تاکہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

انہوں نے ڈاکٹروں، نرسوں، لیبارٹری ماہرین اور دیگر طبی عملے کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ قومی یکجہتی، جدید طبی سہولیات، عوامی تعاون اور مسلسل حکومتی کوششوں کے ذریعے پاکستان 2030 تک ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے ہدف کے حصول کی جانب مؤثر پیش رفت کر سکتا ہے۔