آزاد کشمیر اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے کے بھارتی اقدام کی مذمت
میرپور انتخابات پر تحفظات، پونچھ کے حالات پر ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن کا مطالبہ کردیا۔
فائل فوٹو
مظفرآباد : آزاد کشمیر اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے کے بھارتی اقدام کی مذمت، میرپور انتخابات پر تحفظات، پونچھ کے حالات پر ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن کا مطالبہ کردیا۔
آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس اسییکر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے ریاست کی جغرافیائی و آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے اقدامات کے خلاف قراردادِ مذمت منظور کرلی گئی۔
جبکہ میرپور ڈویژن میں حالیہ انتخابات کے نتائج پر پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بعض انتخابی حلقوں کے نتائج روکنے اور دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔
اجلاس میں آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال، بالخصوص پونچھ میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور جانی نقصان کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حقائق سامنے لانے، ذمہ داران کا تعین کرنے اور پائیدار مفاہمت کیلئے ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن قائم کرنے کی تجاویز بھی سامنے آئیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پرتشدد واقعات: کالعدم ایکشن کمیٹی کی فائرنگ سے اہلکار اور راہگیر زخمی ہوئے،میرپور پولیس
وزیراعظم آزاد کشمیر نے مظفرآباد میں قائم فاطمہ جناح پارک سے متعلق معاملے کی تحقیقات کرانے کی یقین دہانی کرائی۔ اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور ، سابق وزیراعظم سردار یعقوب خان، پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی اور پاکستان تحریک انصاف کے دو ارکان نے شرکت کی۔ اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبول ﷺ سے ہوا۔
اجلاس کے آغاز ہی میں سابق وزیراعظم سردار یعقوب خان نے آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال، بالخصوص پونچھ میں پیدا ہونے والے حالات کے حوالے سے قرارداد پیش کی۔
قرارداد میں ریاست کے اندر امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے، کشیدگی کا خاتمہ کرنے اور معمولات زندگی بحال کرنے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے پر زور دیا گیا۔
اجلاس میں چوہدری محمد یاسین نے میرپور ڈویژن میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے حوالے سے قرارداد پیش کرتے ہوئے انتخابی عمل اور نتائج پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ وفاقی وزراء نے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو شکست دلوانے کے لیے مبینہ طور پر انتخابی عمل میں مداخلت کی۔
چوہدری محمد یاسین نے ایوان کو بتایا کہ میرپور ڈویژن میں ہونے والے بعض انتخابات میں ٹرن آؤٹ مبینہ طور پر 30 سے 35 فیصد کے درمیان رہا، جبکہ حلقہ چڑھوئی کے تقریباً 50 پولنگ اسٹیشنز پر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کے حق میں مبینہ طور پر 90 فیصد سے زائد ووٹ ظاہر کئے گئے۔
چوہدری یٰسین نے الزام عائد کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے پولنگ ایجنٹس کو مبینہ طور پر زد و کوب کرکے پولنگ اسٹیشنز سے باہر نکالا گیا اور ان کی عدم موجودگی میں انتخابی عمل جاری رکھا گیا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ میرپور ڈویژن کے تین انتخابی حلقوں کے نتائج کو حتمی شکل دینے سے روکا جائے اور ان حلقوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے بعد دوبارہ انتخابات کرائے جائیں۔
چوہدری محمد یاسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ آزاد کشمیر میں جب بھی آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہوئے، عوام نے پاکستان پیپلز پارٹی کو مینڈیٹ دیا۔چوہدری لطیف اکبر کا کہنا تھا کہ اگر وفاقی وزراء آزادکشمیر آتے ہیں تو اس کے ذمہ دار وہ خود ہونگے
انہوں نے مسلم کانفرنس اور مسلم لیگ (ن) پر بھی سیاسی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں مسلم کانفرنس جبکہ موجودہ دور میں مسلم لیگ (ن) مبینہ طور پر عوامی مینڈیٹ کے بجائے دیگر ذرائع سے اقتدار میں آتی رہی ہے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی خواجہ فاروق احمد نے بھی میرپور ڈویژن کے انتخابی عمل اور نتائج پر تحفظات کا اظہار کردیا۔
خواجہ فاروق احمد نے مطالبہ کیا کہ میرپور ڈویژن کے تمام انتخابات کو کالعدم قرار دیا جائے اور حالات معمول پر آنے کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع فراہم کرتے ہوئے دوبارہ انتخابات کرائے جائیں تاکہ پاکستان تحریک انصاف سمیت تمام جماعتیں انتخابی عمل میں حصہ لے سکیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر میں احتجاج کی آڑ میں انتشار اور فورسز پر حملے منظم سازش کا حصہ ہیں، ایس ایس پی ریاض مغل
اجلاس میں سردار یعقوب خان اور سردار حسن ابراہیم نے آزاد کشمیر بالخصوص پونچھ میں پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالے سے الگ الگ قراردادیں پیش کیں۔
قراردادوں میں موجودہ بحران کے اسباب اور حالات کو اس نہج تک پہنچانے کے ذمہ دار عناصر کا تعین کرنے کے لیے ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن کے قیام کی تجویز پیش کی گئی۔
ارکان اسمبلی نے مؤقف اختیار کیا کہ سیاسی اختلافات اور انتخابات اپنی جگہ، تاہم ریاست اور انسانی جانوں کا تحفظ سب سے مقدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشیدگی اور تصادم کے نتیجے میں دونوں جانب نقصان آزاد کشمیر کے اپنے لوگوں کا ہو رہا ہے، اس لیے طاقت اور تصادم کے بجائے مذاکرات، گفت و شنید اور باہمی مفاہمت کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کیا جانا چاہیے۔
قرارداد میں اس امر پر زور دیا گیا کہ ماضی کے واقعات اور حالیہ کشیدگی کے محرکات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے، حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں، ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جائے اور متاثرہ فریقین کے درمیان اعتماد بحال کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا تدارک ممکن ہو۔
مقبوضہ کشمیر سے متعلق قراردادِ مذمت
اجلاس میں سردار یعقوب خان اور سردار حسن ابراہیم نے وفاقی وزیرخواجہ آصف سے کشمیریوں کی توہین کرنے پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔
اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے ریاست کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے کے اقدامات کے خلاف بھی قراردادِ مذمت پیش کی گئی، جسے ایوان نے منظور کرلیا۔
قرارداد میں بھارت کے اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا نوٹس لے اور کشمیری عوام کے بنیادی حقوق اور حق خودارادیت کے تحفظ کیلئے مؤثر کردار ادا کرے۔
قرارداد میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب اور جغرافیائی و سیاسی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں کو روکا جائے۔
فاطمہ جناح پارک کا معاملہ، وزیراعظم کی تحقیقات کی یقین دہانی
اجلاس کے دوران مظفرآباد میں قائم فاطمہ جناح پارک سے متعلق معاملہ بھی ایوان میں زیر بحث آیا۔ معاملے پر ارکان کی جانب سے تحفظات اور سوالات سامنے آنے پر وزیراعظم آزاد کشمیر نے اس معاملے کی تحقیقات کرانے کی یقین دہانی کرائی۔
وزیراعظم کی یقین دہانی کے بعد معاملے کے حقائق سامنے لانے اور متعلقہ امور کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات کی راہ ہموار ہوگئی۔
ریاستی صورتحال پر سیاسی اتفاقِ رائے کی ضرورت پر زور
قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں ہونے والی بحث کا مجموعی محور آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی و امن و امان کی صورتحال، میرپور ڈویژن کے انتخابی نتائج پر تحفظات، پونچھ میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال رہا۔
ارکان اسمبلی نے اس امر پر زور دیا کہ ریاست کے اندر سیاسی اختلافات کو جمہوری اور پارلیمانی دائرہ کار میں رہتے ہوئے حل کیا جائے، جبکہ انسانی جانوں کے تحفظ، امن و امان کے قیام اور عوام کے اعتماد کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے۔
اجلاس میں پیش کی جانے والی قراردادوں اور ارکان اسمبلی کی تقاریر سے یہ امر بھی واضح ہوا کہ موجودہ حالات میں سیاسی قیادت کے درمیان مذاکرات، مفاہمت اور پارلیمانی سطح پر سنجیدہ مکالمے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے، تاکہ آزاد کشمیر میں سیاسی استحکام، امن و امان اور جمہوری عمل کو مضبوط بنایا جاسکے۔