ایران اور امریکا کا تنازع مزید نہیں پھیلنا چاہیے،دفتر خارجہ

پاکستان تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے اور مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع ہو

July 30, 2026 · اہم خبریں

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان خلیج، بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کو ہی مؤثر راستہ سمجھتا ہے۔

ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان تکنیکی مذاکرات کی بحالی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کے لیے سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق پاکستان تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے اور مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع ہو۔

انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں فلسطین، غزہ، مغربی کنارے، مسجد اقصیٰ اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی امن، استحکام اور بحیرہ احمر و آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری تجارت کے تسلسل کے لیے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتا ہے اور خطے میں کشیدگی یا جنگ کے پھیلاؤ کا مخالف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کسی دوسرے ملک تک نہیں بڑھنا چاہیے۔

کویت کے ساتھ دفاعی تعاون سے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ 2023 میں طے پایا تھا اور دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں پر محیط دفاعی تعاون کا تسلسل ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اپنے تمام دفاعی معاہدوں کے تحت ذمہ داریاں پوری کرتا رہے گا۔

ترجمان نے پاکستان کے جوہری پروگرام سے متعلق ایک غیر ملکی دستاویزی فلم کے مندرجات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس میں غیر مصدقہ معلومات پیش کی گئی ہیں، جبکہ پاکستان کا جوہری کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام محفوظ اور مؤثر ہے۔

انہوں نے بھارتی وزیر دفاع کے کارگل سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دینے میں ہے۔

افغانستان سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی کارروائیاں صرف دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ہوتی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے سکھ یاتریوں کو بڑی تعداد میں ویزے جاری کیے ہیں، جبکہ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کو معمول کا جمہوری عمل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو آزاد کشمیر کے معاملات پر تبصرہ کرنے کے بجائے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر توجہ دینی چاہیے۔