کئی گھنٹوں تک مسلسل بارش سے راولپنڈی میں کئی علاقے زیر آب۔ہائی الرٹ جاری

نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند

July 31, 2026 · اہم خبریں

 

راولپنڈی میں کئی گھنٹوں تک مسلسل تیز بارش کے باعث نالہ لئی میں پانی کی سطح بلند ہوگئی،صورت حال کے پیش نظر جڑواں شہروں میں ہائی الرٹ جاری کیا گیاہے۔ ضلعی انتظامیہ نالہ لئی اور دیگر حساس مقامات پر صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔

جڑواں شہروں راولپنڈی، اسلام آباد اور مضافات سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش ہوئی سے گرمی کا زور تو ٹوٹ گیا لیکن کئی نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے اور ندی نالوں میں پانی کی سطح بلند ہو گئی۔

راولپنڈی اور اسلام آباد میں تیز بارش کے بعد نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہونا شروع ہو گئی ، ریسکیو اور انتظامیہ کے مطابق کٹاریاں کے مقام پر نالہ لئی میں پانی کی سطح 10 فٹ ، گنجمنڈی کے مقام پر 6 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔

چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ کے علاقے راجہ اکرم کالونی میںموسلا دھار بارش سے گلیاں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیںپانی تیزی سے رہائشی آبادی میں داخل ہو گیا۔متعدد گھروں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہونے سے شہریوں کا قیمتی سامان پانی کی نذر ہو گیا۔

میڈیا کوآرڈینیٹر ریسکیو راولپنڈی محمد عثمان گجر نے اس حوالے سے کہا ہے کہ ریسکیو اہلکار نالہ لئی کے اطراف اور نشیبی علاقے میں ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں، ریسکیو اہلکار کٹاریاں، گوالمنڈی اور دیگر نشیبی علاقے میں تعینات کیے گئے ہیں، بارشوں کے دوران ریسکیو اہلکار ان جگہوں پر مسلسل ڈیوٹی پر موجود رہیں گے۔

ترجمان ریسکیو کا کہناہے کہ عوام مون سون موسم کے دوران انتہائی احتیاط برتیں، والدین دوران بارش بچوں کو نالہ لئی اور بجلی کے کھمبے کے پاس ہر گز نہ جانے دیں، بارش کے دوران ڈرائیونگ کم رفتار پر کریں، اربن فلڈنگ سے قبل محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائے، بارش کے دوران کمزور اور خستہ حال چھتوں کے نیچے نہ جائیں، ندی نالوں کو عبور کرنے سے گریز کریں، شدید بارشوں اور بادل پھٹنے کے خطرات کے پیش نظر سیاحتی مقامات پر نہ جائیں، کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں ریسکیو ہیلپ لائن 1122 پر فوری اطلاع دیں۔

گوجرانوالہ شہر، ڈسکہ اور ان کے گردونواح میںبھی موسلادھار بارش کے نتیجے میں تمام نشیبی علاقے پانی میں ڈوب گئے ۔وزیرآباد اور اس کے قریبی علاقوں میں بھی تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی کے متعدد فیڈرز ٹرپ کر گئے، جس کے باعث وسیع علاقے میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ۔