بلوچستان میں اشرافیہ اور سرداروں کی ضرورت نہیں، دہشت گردوں سے مذاکرات نہیں ہوں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر
رواں سال دہشت گردی میں 303 اہلکار اور 322 شہری شہید ہوئے، پریس کانفرنس
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری
پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردوں سے مذاکرات نہیں ہوں گے، وہاں اشرافیہ اور سرداروں کی ضرورت نہیں، ہم نے عام آدمی کو اینگیج کرنا شروع کردیا ہے۔
جمعہ کو ایک طویل پریس کانفرنس میں جنرل شریف نے کہا کہ ریاست دہشت گرد گروہوں کے ساتھ مذاکرات کی پالیسی نہیں رکھتی اور قانون کے مطابق کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں کے پاس ہتھیار ڈالنے اور قانون کے سامنے سرینڈر کرنے کا اختیار موجود ہے، بصورت دیگر سکیورٹی فورسز ان کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا مسئلہ وہیں کے سردار اور ایلیٹ طبقہ ہے، ایلیٹ اور سردار کہتے ہیں کہ غریب کا بچہ تعلیم حاصل نہ کر سکے، ان کو لیویز فورس کی تنخواہیں چاہئیں، ان کو اپنے ذاتی گھروں کی چوکیداری کے لیے لیویز فورس چاہیے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ دہشت گروں کا ایک قبیلہ ہے جس میں اسٹیٹس کو ہے اور اسٹیٹس کو یہ ہے کہ غریب کا بچہ پڑھے نہیں اور ہمیشہ ان کا غلام رہے۔ کیا حقوق کی بات کرنے والے اپنے فرائض سے بھی آگاہ ہیں؟
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ کاروبار کے نام پر منشیات اور ڈیزل اسمگلنگ کرتے ہیں، سردار کہتے ہیں ہمیں حصہ نہیں دو گے تو دہشت گردی کروائیں گے، انہیں عادت ہے لیویز میری ذاتی فورس ہے، میں اس کا سردار ہوں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ انہیں مسئلہ ہے کہ ہمارے پیروں کو ہاتھ کیوں نہیں لگایا جا رہا جبکہ بلوچستان کے عوام ہی اصل میں صوبے کے اسٹیک ہولڈرز ہیں، یہ اپنے غیر قانونی دھندوں کے لیے پرمٹس مانگتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کیا ہم ہارڈ اسٹیٹ ہے یا نہیں؟ ہارڈ اسٹیٹ وہ ہوتی ہے جس میں تمام معاملات آئین اور قانون کے مطابق ہوں، ہارڈ اسٹیٹ کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ملٹری ریاست کو چلا رہی ہے۔ آئین کا آرٹیکل 5 بالکل واضح کہتا ہے وفاداری صرف ریاست سے ہوگی۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ پاکستان میں آئین و قانون سب کے لیے یکساں ہے، آئین و قانون کے مطابق سب معاملات کو دیکھنا ہوگا۔
انسدادِ دہشت گردی اور ملکی سکیورٹی کی صورتحال پر پریس بریفنگ کے دوران انھوں نے کہا کہ ملک بھر میں انسدادِ دہشت گردی کے لیے مجموعی طور پر 40 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران بلوچستان میں 31 ہزار جبکہ خیبر پختونخوا میں 7,177 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔ انھوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں کر رہی ہیں اور دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے مختلف علاقوں میں آپریشنز کا سلسلہ جاری ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ رواں سال اب تک دہشت گردی سے متعلق واقعات میں 819 افراد مارے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران فوج کے 303 اہلکار جبکہ 322 شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی عرصے کے دوران سکیورٹی فورسز نے مجموعی طور پر 2,084 مصدقہ دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ ان کے بقول فورسز نے اوسطاً روزانہ 194 آپریشنز کیے جبکہ ہر روز تقریباً 10 دہشت گرد مارے گئے۔