مظفرآباد میں جھڑپوں کے دوران ایک شخص کی موت۔2پولیس اہلکار زخمی
کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے الیکشن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ،حکام
آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں کالعدم تنظیم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حامی مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپ کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا، پولیس کے مطابق اس کے دو اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ہلاک ہونے والا شخص راہگیر تھا۔ تاہم عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن رکن سردار تنویر کا دعویٰ ہے کہ وہ کا رکن تھا جو فائرنگ سے ہلاک ہوا اور پولیس کی شیلنگ سے تین کارکن زخمی ہوئے ہیں۔دوسری طرف پولیس نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ شرپسندعناصرکے حملے سے مظفرآباد میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والا شخص 30 سالہ معید راٹھور ہے ،ان کی نماز جنازہ جمعے کی شب لوئر پلیٹ میں ادا کی گئی۔
مظفر آباد میں جمعہ کو کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حامیوں کی جانب سے شہر کی سڑکوں کو مختلف مقامات سے پھتر پھینک کر اور ٹائر جلا کر بند کیا گیاتھا۔ مظاہرین کئی گھنٹوں تک ٹولیوں کی شکل میں احتجاج کرتے رہے ۔ پولیس نے انھیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس بھی استعمال کی۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے میرپور کے بعد مظفر آباد میں بھی الیکشن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے مگر پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پا لیا۔
مظفر آباد کے ڈپٹی کمشنر منیر احمد کا کہنا تھا کہ اس وقت شہر میں امن و امان کی صورت حال کنٹرول میں ہے۔
جمعے کے روز مظفر آباد کے علاقے لوئر پلیٹ، چہلہ بانڈی اور اپر اڈہ سمیت مظفر آباد کے کئی علاقوں میں احتجاج کیا گیا۔اس دوران راولاکوٹ میں پولیس کی کارروائی کے خلاف نعرے بازی بھی کی گئی۔ مظفرآباد لوئر پلیٹ میں حالات کشیدہ رہے۔ ’لوئر پلیٹ، چہلہ بانڈی اور اپر اڈہ میں کئی لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ دکانیں بند، سیاسی جماعتوں کے پوسٹرز اتار کر آگ لگائی گئی۔ مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔
مظفر آباد کے مقامی افراد اور عینی شاہدین کے بقول آنسو گیس کے کچھ گولے گھروں میں بھی گرے۔ مظفر آباد میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حامی کارکنان کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کے دوران مرکزی شاہراہ نیلم روڈ بھی کچھ دیر کے لیے بند کی گئی۔دریں اثنا میرپور میں انٹرنیٹ سروس معطل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ جمعرات کی رات سے ہی انٹرنیٹ بند ہے جس میں لینڈ لائن اور وائی فائی دونوں شامل ہیں۔میرپور ڈویژن میں قانون ساز اسمبلی کے الیکشن کے پہلے مرحلے میں 26 جولائی کو انٹرنیٹ سروس بحال کی گئی تھی۔ الیکشن کا دوسرا مرحلہ مظفر آباد ڈویژن میں دو اگست کو شروع ہو گا۔