نظام بدلنا ہے تو پہلے پی سی بی میں انقلاب لائیں،خواجہ آصف کا محسن نقوی کو جواب
نظام مسلسل ارتقا کے عمل سے گزرتا رہتا ہے اور ایسا ہونا بھی چاہیے، تاہم اگر تبدیلی کی بات کی جا رہی ہے تو اس کے عملی نمونے بھی سامنے آنے چاہییں۔
اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے نظام میں بنیادی تبدیلی سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اصلاحات لانا مقصود ہیں تو اس کا آغاز ان اداروں سے کیا جانا چاہیے جہاں مکمل اختیارات موجود ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ نظام مسلسل ارتقا کے عمل سے گزرتا رہتا ہے اور ایسا ہونا بھی چاہیے، تاہم اگر تبدیلی کی بات کی جا رہی ہے تو اس کے عملی نمونے بھی سامنے آنے چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ محسن نقوی پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین بھی ہیں، جہاں نہ وزیراعظم کی مداخلت ہے، نہ پارلیمنٹ کی رکاوٹ اور نہ ہی کسی فرسودہ سیاسی نظام کی پابندی، اس لیے اگر اصلاحات کا وژن موجود ہے تو اس کا عملی اظہار سب سے پہلے پی سی بی میں نظر آنا چاہیے، کیونکہ کرکٹ شائقین بھی بورڈ کی موجودہ کارکردگی سے مکمل طور پر مطمئن نہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ وہ محسن نقوی کی جانب سے نظام کی خامیوں سے متعلق اظہارِ خیال سے بڑی حد تک اتفاق کرتے ہیں، لیکن اگر ملک میں بنیادی اور دیرپا تبدیلی لانی ہے تو اس کا آئینی فورم پارلیمنٹ ہے، جس کے محسن نقوی خود بھی رکن ہیں۔ ان کے مطابق ایسے معاملات کابینہ میں بھی زیر بحث لائے جا سکتے ہیں تاکہ اصلاحات آئینی اور جمہوری طریقہ کار کے ذریعے نافذ ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ملک کا نظام کئی دہائیوں سے گروہی اور ذاتی مفادات کے زیراثر رہا ہے، جسے آزاد کرنے کی ضرورت ہے، تاہم اس مقصد کے لیے آئینی اداروں کو فعال بنانا ناگزیر ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ محسن نقوی گزشتہ ساڑھے تین برس سے اہم سرکاری ذمہ داریوں پر فائز ہیں، اس دوران اگر وہ چاہتے تو مختلف شعبوں میں اصلاحات کا آغاز کر سکتے تھے، تاہم اگر اب اس سمت میں پیش رفت ہوتی ہے تو اسے خوش آئند سمجھا جانا چاہیے۔
خواجہ آصف نے نیشنل ایکشن پلان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ بریفنگ میں اس کے 13 نکات کا ذکر کیا گیا، جن میں سے ایک پر سیکیورٹی فورسز اپنی جانوں کی قربانی دے کر عمل کر رہی ہیں، جبکہ باقی نکات پر عملدرآمد وزارتِ داخلہ کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اگر واقعی نظام میں مثبت تبدیلی لانا مقصود ہے تو اس کا آغاز وزارتِ داخلہ کے دائرہ اختیار میں آنے والے نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد اور انتظامی اصلاحات سے کیا جانا چاہیے، کیونکہ پوری قوم ایسے اقدامات کی حمایت کرے گی۔