عمران خان طبی بنیادوں پر رہا کیا جا سکتا ہے، برطانوی اخبار
ملک چھوڑ کر جانا،سیاست سے دور رہنا، اورکسی بھی قسم کے سیاسی بیانات سے گریز کرنا شرائط میں شامل ہو سکتا ہے،دی آبزرور کی رپورٹ
فائل فوٹو
اسلام آباد: پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور 1992ء کے عالمی کپ فاتح کپتان عمران خان کو اڈیالہ جیل میں قید ہوئے تین سال مکمل ہونے کو ہیں، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ پسِ پردہ ان کی رہائی سے متعلق ممکنہ معاہدے پر بات چیت شروع ہو گئی ہے۔
برطانوی اخبار دی آبزرور کی رپورٹ کے مطابق، عمران خان کی رہائی کے حوالے سے عسکری اسٹیبلشمنٹ اور ان کے اہل خانہ کے درمیان بالواسطہ (تھرڈ پارٹی) رابطے اور تبادلہ خیال ہوا ہے۔ تاہم، معاملہ انتہائی حساس ہونے کے باعث یہ ابتدائی بات چیت صرف ثالثوں کے ذریعے کی جا رہی ہے۔
گفتگو سے آگاہ ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ “پاکستان کو آگے بڑھانے کے لیے اس سیاسی جمود کا خاتمہ ضروری ہے، کیونکہ طویل سیاسی عدم استحکام نے ملک کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
طبی بنیادوں پر رہائی کا امکان؟
رپورٹ کے مطابق، عمران خان کی طبی بنیادوں پر رہائی کو موجودہ ڈیڈ لاک ختم کرنے کے ایک ممکنہ راستے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ 73 سالہ عمران خان کی آنکھ کا رواں سال آپریشن ہوا تھا، جبکہ ان کے اہل خانہ اور وکلا ان کی گرتی ہوئی صحت سے متعلق مسلسل تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
عمران خان کے بیٹوں سلیمان اور قاسم نے دی آبزرور کو دیے گئے ایک بیان میں کہا ہمارے والد کو سات ماہ سے زائد عرصے سے بیرونی دنیا سے الگ تھلگ رکھا گیا ہے۔ ہمیں اندیشہ ہے کہ طویل قید کے باعث ان کی صحت مزید خراب ہوئی ہے، اور ہمیں ان سے آزادانہ رابطے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ اب خاموش رہنا ممکن نہیں رہا۔
عمران خان کے بین الاقوامی میڈیا مشیر سید زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ عمران خان کو فوری اور بہترین طبی دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت میں ذرہ برابر بھی ذمہ داری کا احساس ہے تو انہیں طبی بنیادوں پر رہا کیا جانا چاہیے۔
ماضی کی مثالیں اور سخت شرائط
تجزیہ کاروں کے مطابق، ماضی میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو بھی ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے کشیدگی اور سزا کے بعد 2019ء میں طبی بنیادوں پر لندن جانے کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم عمران خان کے معاملے میں کسی بھی ممکنہ معاہدے میں سخت شرائط شامل ہو سکتی ہیں جن میں ملک چھوڑ کر جانا،سیاست سے دور رہنا، اورکسی بھی قسم کے سیاسی بیانات سے گریز کرنا۔
تاہم، سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ 1992ء کے ورلڈ کپ میں اپنی ٹیم کو “گھائل شیر” (Cornered Tiger) کی طرح لڑنے کا درس دینے والے عمران خان ان شرائط کو قبول کرنے پر شاید ہی آمادہ ہوں۔