حالات سے توجہ ہٹانے کیلیے صوبوں کا شوشہ چھوڑا گیا، مولانا فضل الرحمٰن

کوئٹہ پریس کانفرنس میں آئینی نظام، جمہوریت اور قومی پالیسی پر اظہار خیال

August 4, 2026 · اہم خبریں, قومی

فائل فوٹو

کوئٹہ: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ صوبے بنانا اتنا آسان کام نہیں، ملکی حالات سے توجہ ہٹانے کے لیے نئے شوشے چھوڑے جاتے ہیں۔

کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ صوبے بنانا بری بات نہیں، لیکن یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ملک اس کا متحمل ہوسکتا ہے، مزید صوبے بنانے کے لیے ملکی ساخت کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ محسن نقوی وزیراعظم کی مشاورت کے بغیر ایسی بات نہیں کرسکتے۔ صوبے بنانا اتنا آسان کام نہیں ہے، بعض اوقات ملکی حالات سے توجہ ہٹانے کے لیے نئے شوشے چھوڑے جاتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ محمود خان اچکزئی جوائنٹ اپوزیشن کا اجلاس بلائیں اور ملکی حالات پر غور کریں۔ اگر محمود خان اچکزئی اجلاس نہیں بلاتے تو ہم ملکی سطح پر اجلاس بلائیں گے۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ملک میں مرضی کی حکومتیں بنائی جائیں گی تو جمہوریت پنپ نہیں سکے گی۔ یہاں جمہوریت نہیں، پارلیمنٹ کمزور ہوگئی ہے، ملک کو آئین کے مطابق چلانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالات کی بہتری کے لیے کوئی قومی پالیسی موجود نہیں، عوام موجودہ صورتحال میں پریشان ہیں۔ ملک میں قومی اور انصاف پر مبنی پالیسی کی ضرورت ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عوام کی سب سے بڑی جماعت اور ملک میں اہم تحریک جے یو آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بلوچستان حکومت میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا اور ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے وزیراعلیٰ بلوچستان بننے کا انہیں علم نہیں تھا۔