گورنرہاوس اور ایچی سن کالج میں ایک بارپھر تنازع شروع
شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے پرنسپل کے نام اہم ہدایت نامہ جاری
تصویر: سوشل میڈیا
گورنرہائوس اورایچی سن کالج کے درمیان ایک بارپھر تنازع شروع ہوگیا۔ پرنسپل کو بورڈ آف گورنرزکے صدر کی حیثیت سے گورنر پنجاب نے ایک خط لکھا ہے ۔
گورنر سیکرٹریٹ پنجاب نے ایچی سن کالج لاہور میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم ہدایت نامہ جاری کیا ہے، جس میں طالب علموں کے قائدانہ عہدوں اور عملے کے تقرر کے لیے جامع اور واضح پالیسیاں وضع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
گورنر سیکرٹریٹ کے سیکشن آفیسر غلام حسین کی جانب سے ایچی سن کالج کے پرنسپل کو بھیجے گئے ایک آفیشل لیٹر کے مطابق، یہ اقدام بحریہ ٹاؤن لاہور کے رہائشی کامران محبوب نامی شہری کی جانب سے موصولہ درخواست پر اٹھایا گیا ہے، جس میں کالج کے انتظامی امور میں میرٹ اور شفافیت پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔
مکتوب میں کہا گیا ہے کہ معزز گورنر پنجاب/ صدر بورڈ آف گورنرز (BOGs) نے ہدایت کی ہے کہ کالج انتظامیہ درج ذیل امور کے لیے جامع اور میرٹ پر مبنی پالیسیاں تشکیل دے۔
پریفیکٹس کا انتخاب اور کھیل و تعلیم سے متعلق دیگر تمام لیڈرشپ پوزیشنز۔ہاؤس ماسٹر کا تقرر۔ اورعملے کی ترقیاں۔
گورنر سیکرٹریٹ کے مطابق نئی پالیسیوں میں اہلیت کا معیار، انتخاب کا طریقہ کار، مدتِ ملازمت/عہدہ، ضابطہ اخلاق اور ذمہ داریوں کا واضح تعین ہونا ضروری ہے تاکہ تمام تقرریوں اور ترقیوں میں یکسانیت اور شفافیت برقرار رہے اور کسی قسم کی جانبداری کا عنصر شامل نہ ہو۔
ہدایت نامے میں مزید تاکید کی گئی ہے کہ ان تمام پالیسیوں کو بورڈ آف گورنرزسے باقاعدہ منظور کروانے کے بعد ایچی سن کالج کی آفیشل ویب سائٹ اور تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پبلک کیا جائے، تاکہ تمام اسٹیک ہولڈرز، والدین اور طلبہ تک اس کی آسان رسائی ممکن ہو اور نظام مکمل طور پر شفاف ہو سکے۔
جولائی میں پرنسپل ڈاکٹر ایس ایم تراب حسین نے والدین کے نام ایک خط جاری کیاتھاجس میں کہاگیاکہ ایوارڈز، کلرز، پریفیکٹ شپ اور لیڈرشپ پوزیشنز صرف میرٹ پر دی جائیں گی۔والدین سے درخواست کی گئی کہ وہ فیصلوں میں مداخلت نہ کریں۔اگر کسی والدین کی سفارش یا اثراندازی ثابت ہوئی تو طالب علم کو لیڈرشپ پوزیشن سے محروم کر دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ دو برس پہلے کالج کے انگریز پرنسپل احتجاجاً مستعفی ہو گئے تھے۔برطانوی ماہر تعلیم مائیکل تھامسن نے گورنر ہاؤس کی مداخلت کے خلاف استعفیٰ دے دیا تھا۔