خالصتان کا مجوزہ دارالحکومت شملہ جہاں بھارت کو سفارتی شکست ہوئی تھی
انڈیانا ریفرنڈم کے موقع پر سکھ رہنمائوں کا اعلان
امریکی ریاست انڈیانا میں منعقدہ خالصتان ریفرنڈم کے موقع پر سکھوں نے شملہ کو ڈیموکریٹک ریپبلک آف خالصتان کا دارالحکومت قرار دینے کا اعلان کر دیا۔ یہ مقام بھارتیوں کو ماضی کی ایک اہم سفارتی شکست کی یاد دلاتا ہے۔
‘سکھس فار جسٹس’ کے رہنما گُرپتونت سنگھ پنوّں نے انڈیانا پلس (انڈیانا) میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹک ریپبلک آف خالصتان کا دارالحکومت شملہ ہوگا۔ انہوں نے بھارتی حکومت پر سکھوں کی نسل کشی کا الزام عائد کیا اور ریفرنڈم کے اختتام پر خالصتان کا نقشہ بھی جاری کیا۔
پنوّں نے اس سے قبل لاہور پریس کلب میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ جمہوری طریقے سے خالصتان قائم کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم “سکھ ہوم لینڈ سیکیورٹی” کے نام سے ایک دفاعی فورس بھی بنائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سکھوں کو دفاع کا مکمل قانونی حق حاصل ہے۔
شملہ ایک تاریخی سیاحتی مقام ہے۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگی قیدیوں کی واپسی کے لیے مذاکرات یہاں ہوئے تھے۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں جولائی 1972 میں شملہ معاہدہ طے پایا۔ اس وقت ذوالفقار علی بھٹو صدر تھے جنہوں نے بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو سفارت کاری میں شکست دی تھی۔ بھارتی تجزیہ کار آج بھی اس کا اعتراف کرتے ہیں۔
اس معاہدے کے تحت تقریباً 93 ہزار قیدی اور وہ تقریباً 5 ہزار مربع میل کا علاقہ جس پر بھارت کا قبضہ تھا، پاکستان کو واپس مل گیا۔ بھٹو ان مذاکرات کے لیے بے نظیر بھٹو، پختون سیاست دان ولی خان اور جنرل ضیا الحق (جو اس وقت آرمی چیف نہیں تھے) کو بھی ساتھ لے کر گئے تھے۔ شملہ معاہدہ آج بھی قائم ہے۔
بھارتی تجزیہ کاروں کے مطابق شملہ مذاکرات میں بھٹو کی جیت ہوئی تھی کیونکہ بھارت نے ان کے تقریباً تمام مطالبات مان لیے تھے۔ شملہ کے ساتھ جڑی اس تاریخی داستان کو دیکھتے ہوئے یہ سوال سامنے آتا ہے کہ یہ سرزمین مستقبل میں بھارت کے لیے کیا نیا سرپرائز لے کر آ سکتی ہے۔