آئندہ ہفتے جزوی چاند گرہن ہوگا
چاند کا تقریباً 96 فیصد حصہ نارنجی دکھائی دے گا ، محکمہ موسمیات
فائل فوٹو
اسلام آباد: آئندہ ہفتے جزوی چاند گرہن ہوگا، محکمہ موسمیات نے شیڈول جاری کردیا۔
نجی ٹی وی کے مطابق آئندہ ہفتے 27 اور 28 اگست کی درمیانی شب تیکنکی طور پر جزوی چاند گرہن ہوگا جس میں چاند کا تقریباً 96 فیصد حصہ نارنجی دکھائی دے گا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق چاند گرہن کا یہ نظارہ پاکستان میں دکھائی نہیں دے گا۔ تاہم دنیا کے کئی ممالک میں یہ نظارہ دیکھنا ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق اگست 2026 میں آسمان پر ایک شاندار فلکیاتی منظر دیکھنے کو ملے گا، جب 27 اور 28 اگست کی درمیانی شب زمین سورج اور چاند کے درمیان آجائے گی، جس کے نتیجے میں جزوی چاند گرہن ہوگا۔
اگرچہ یہ تکنیکی طور پر جزوی چاند گرہن ہوگا، تاہم اس کا منظر تقریباً مکمل چاند گرہن جیسا دکھائی دے گا، کیونکہ چاند کے قطر کا تقریباً 93 فیصد حصہ زمین کے گہرے ترین سائے یعنی ’اُمبرا‘ میں داخل ہو جائے گا۔
سطحی رقبے کے اعتبار سے چاند کا تقریباً 96 فیصد حصہ اس سائے میں چھپ جائے گا اور صرف تقریباً 4 فیصد حصہ روشن دکھائی دے گا۔
فلکیاتی حساب کے مطابق چاند گرہن کا ابتدائی مرحلہ 28 اگست کو 01:23 پر شروع ہوگا، جب چاند زمین کے ہلکے سائے میں داخل ہونا شروع کرے گا۔
اس کے بعد 02:33 پر جزوی گرہن کا نمایاں مرحلہ شروع ہوگا۔ گرہن اپنے عروج پر 04:12 پر پہنچے گا، جب زمین کا گہرا سایہ چاند کے سب سے بڑے حصے کو ڈھانپ لے گا۔
گہرے سائے سے چاند کے نکلنے کا عمل 05:52 پر مکمل ہوگا، جبکہ چاند گرہن کا آخری ہلکا مرحلہ تقریباً 07:02 پر ختم ہو جائے گا۔
اس دوران چاند کے شمالی حصے میں روشنی کی ایک باریک پٹی نمایاں رہنے کی توقع ہے، جس کے باعث آسمان پر یہ منظر انتہائی دلکش دکھائی دے سکتا ہے۔
خصوصی چشموں کی ضرورت نہیں
ماہرین کے مطابق چاند گرہن کو براہِ راست آنکھوں سے دیکھنا محفوظ ہے اور اسے دیکھنے کے لیے خصوصی حفاظتی چشموں یا فلٹرز کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ معاملہ سورج گرہن سے مختلف ہے، جس میں براہِ راست سورج کو دیکھنا آنکھوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مزید واضح نظارے کے لیے دوربین یا بائنوکیولرز کا استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے زمین کے سائے کو چاند کی سطح پر آہستہ آہستہ منتقل ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔
آسمان صاف ہونے کی صورت میں یہ فلکیاتی منظر ان علاقوں میں زیادہ بہتر دکھائی دے گا جہاں گرہن کے دوران چاند افق کے اوپر موجود ہوگا۔