بھارتی ٹی وی چینل نے خواجہ آصف کی جعلی ویڈیو چلا دی

خواجہ آصف کی ویڈیو پر اے آئی سے وائس اوور کیا گیا، وزارت اطلاعات کے شعبہ فیکٹ چیک کا بیان

August 24, 2026 · قومی
بھارتی ٹی وی چینل نے خواجہ آصف کی جعلی ویڈیو چلا دی

بھارتی ٹی وی چینل نے خواجہ آصف کی جعلی ویڈیو چلا دی

بھارتی ٹی وی چینل پر خواجہ آصف کی ایک جعلی ویڈیو چلائے جانے کے بعد وزارتِ اطلاعات و نشریات نے پیر کے روز واضح کیا ہے کہ وزیر دفاع خواجہ آصف کی وہ ویڈیو مکمل طور پر جعلی ہے جس میں مبینہ طور پر پاکستان کی ترقی کا بھارت کے ساتھ تقابل کیا گیا تھا۔

وزارت نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کے سرکردہ رہنما نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی کلپ بے بنیاد ہے۔

وزارتِ اطلاعات نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر وزیر دفاع کی اس مبینہ کلپ کو شیئر کرتے ہوئے حقائق عوام کے سامنے رکھے جو تقریباً ایک منٹ پر محیط تھی۔

یہ ویڈیو نجی ٹی وی چینل پر وزیر دفاع کی پریس کانفرنس کا حصہ معلوم ہوتی تھی اور اس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ خواجہ آصف نے ملک کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

مبینہ ویڈیو کلپ میں دکھایا گیا تھا کہ پاکستان اور بھارت نے ایک ہی وقت میں آزادی حاصل کی تھی لیکن دونوں ممالک کی ترقی میں واضح فرق موجود ہے۔

اس جعلی کلپ میں وزیر دفاع کے حوالے سے یہ بھی منسوب کیا گیا تھا کہ بلوچستان ہاتھ سے نکل چکا ہے، خیبر پختونخوا کے عوام مشکلات کا شکار ہیں اور آزاد جموں و کشمیر کے باسی اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ دوسری جانب مبینہ ویڈیو میں بھارت کی ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر اور معیشت میں ترقی کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ہمیں خود سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ کیا ہم ایک حقیقی جمہوریت ہیں اور دوسروں پر الزام تراشی کرنے کے بجائے اپنی حکومت اور پالیسیوں کا محاسبہ کرنا چاہیے۔

سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کرنے والی اس جعلی ویڈیو کو بھارتی میڈیا نے بھی ہاتھوں ہاتھ لیا اور News 18 سمیت کئی اداروں نے اس مبینہ بیان پر خبریں بھی شائع کیں۔

وزارتِ اطلاعات و نشریات نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر اس کلپ کو شیئر کرتے ہوئے باضابطہ تردید جاری کی اور بتایا کہ یہ خبر سراسر جھوٹی ہے اور ویڈیو میں سنائی دینے والی آواز مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔

وزارت کا کہنا ہے کہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس قسم کا کوئی بیان نہیں دیا اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی خبر کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے پہلے سرکاری ذرائع سے اس کی لازمی تصدیق کیا کریں۔ ۔