فیلڈمارشل سید عاصم منیر سے ایرانی وزیر داخلہ سکندرمومنی کی ملاقات

باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

August 24, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

تہران: فیلڈمارشل سید عاصم منیر سے ایرانی وزیر داخلہ سکندرمومنی کی ملاقات ہوئی ہے،وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ملاقات میں شریک ہوئے۔

چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ساتھ ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

لاقات کے دوران پاکستان اور ایران کے درمیان تعاون، علاقائی امن و استحکام اور باہمی تعلقات سے متعلق امور زیر بحث آئے۔ فریقین نے خطے میں امن کے فروغ اور دونوں ممالک کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر بھی بات چیت کی۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق فیلڈمارشل عاصم منیر اور وزیرداخلہ ایران کے سرکاری دورے پر تہران میں موجود ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کاکہنا ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن اور استحکام کا خواہاں ہے،دورہ خطے میں امن واستحکام کے فروغ کیلیے پاکستانی کوششوں کا حصہ ہے۔

ادھرایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے کوشش کر رہا ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے کا مقصد پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ خطے میں امن و سلامتی کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششوں کا تسلسل ہے، دورے کے دوران باہمی دلچسپی کے امور اور دوطرفہ تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

اس سے قبل ایرانی حکومت نے ایکس پر لکھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں علاقائی صورت حال اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تقریب سے خطاب میں کہا ایران اس وقت بھی حالت جنگ میں ہے، ملک مکمل معاشی، فوجی اور سکیورٹی جنگ کا سامنا کر رہا ہے، ہم امریکا کی سخت پابندیوں کے سامنے ثابت قدم ہیں، ایران غیرمساوی جنگ کامقابلہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا نے ایران کو وینزویلا بنانے کی کوشش کی مگر وہ ناکام رہا، دشمن چاہتا تھا کہ ایران تباہ ہوجائے لیکن ایسا نہیں ہوسکا، ایران مضبوط اتحاد سے دنیا کوحیران کرنے والی طاقت بن کر ابھرا، امید ہے عوام کو درپیش مشکلات پر جلد قابو پالیں گے۔