خادم رضوی کی تصویر والا بینر لگانے پر منتظم کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کا مقدمہ درج

تقریب کے منتظم کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی گئی۔

August 24, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

فیصل آباد میں ایک مذہبی تقریب کے دوران حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی تنظیم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سابق سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کی تصویر والا تشہیری بینر لگانے اور انتظامیہ کی اجازت کے بغیر اجتماع منعقد کرنے کے الزام میں تقریب کے میزبان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے اسے حراست میں لے لیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہ کارروائی پولیس کی مدعیت میں کی گئی ہے، جبکہ درج کی گئی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997ء کی دفعہ 11 ڈبلیو شامل کی گئی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ آئین و قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا تفریق اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق فیصل آباد کے علاقے مدینہ ٹاؤن میں ایک مذہبی محفل کا انعقاد کیا گیا تھا جو رات نو بجے سے بارہ بجے تک جاری رہی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس محفل کے انعقاد کے لیے مقامی انتظامیہ یا متعلقہ حکام سے کوئی باضابطہ اجازت نامہ (این او سی) حاصل نہیں کیا گیا تھا، جو کہ انتظامی ضوابط اور دفعہ 144 کی کھلی ورزی ہے۔

پولیس کی جانب سے درج مقدمے میں مزید کہا گیا ہے کہ تقریب کی شہرت کے لیے جو فلیکس (تشہیری بینر) تیار کیا گیا تھا، اس پر کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان کے بانی علامہ خادم حسین رضوی کی تصویر نمایا طور پر شائع کی گئی تھی۔ ایف آئی آر کے مطابق منتظم کے اس عمل سے واضح ہوتا ہے کہ وہ کالعدم تنظیم سے تعلق رکھتا ہے یا اس کے نظریات کا پرچار کر رہا ہے۔

علاوہ ازیں، پولیس نے بینر تیار کرنے والے پرنٹر کو بھی مقدمے میں نامزد کیا ہے۔ ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مذکورہ فلیکس کو ‘شباب’ نامی پرنٹر نے کمپوز اور پرنٹ کیا، جو کہ کالعدم تنظیم کی غیر قانونی تشہیر میں برابر کا ذمہ دار ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد یہ تنظیم کسی بھی قسم کا عمومی یا خصوصاً سڑکوں پر اجتماع، مذہبی تقریب یا تشہیری مہم چلانے کا حق نہیں رکھتی۔

کیس کے تفتیشی افسر انسپکٹر شوکت علی نے صحافیوں کو بتایا کہ تقریب کے منتظم کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس نے موقع پر پہنچ کر تنازع کا باعث بننے والی فلیکس کو قبضے میں لے کر کیس کے باقاعدہ ریکارڈ کا حصہ بنا دیا ہے اور قانون کے مطابق مزید پیش رفت جاری ہے۔