پمز میں شواہد مٹائے جا رہے ہیں، پی پی کا بڑا الزام

افسوسناک واقعے میں 14 بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں، اس لیے خدشہ ہے کہ کہیں شواہد ضائع یا حقائق چھپانے کی کوشش نہ کی جائے

August 29, 2026 · قومی
فوٹو سوشل میڈیا

فوٹو سوشل میڈیا

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے آئی ٹی بل واپس لیے جانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کے بنیادی اور آئینی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ سینیٹر پلوشہ خان، رکن قومی اسمبلی سحر کامران اور سید سبط الحیدر بخاری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران مختلف معاملات پر حکومت سے سوالات بھی اٹھائے۔

سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ آئی ٹی بل واپس لیا جانا خوش آئند ہے اور حکومت کی جانب سے اسے متنازع بل تسلیم کرکے واپس لینے کے فیصلے کو سراہتے ہیں۔ ان کے مطابق بل کی واپسی کا کریڈٹ عوام کو جاتا ہے، جنہوں نے اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کی۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے بھی بل کی مخالفت اور اسے روکنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ عوام کے آئینی حقوق سلب کرنے کی کوئی بھی کوشش ہوئی تو پیپلز پارٹی عوام کے ساتھ کھڑی ہوگی۔

پمز سانحے پر گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ ہسپتال میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں 14 بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں، اس لیے خدشہ ہے کہ کہیں شواہد ضائع یا حقائق چھپانے کی کوشش نہ کی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تحقیقاتی رپورٹ فوری طور پر عوام کے سامنے لائی جائے۔

پلوشہ خان نے پمز کو گزشتہ تین برس کے دوران ملنے والے تقریباً 22 ارب روپے کے فنڈز کے استعمال کا آڈٹ کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ رقم کہاں خرچ ہوئی اور اس کا حساب عوام کے سامنے کیوں نہیں لایا جا رہا۔

پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ اگر تحقیقات شفاف انداز میں نہ ہوئیں تو خدشہ ہے کہ اصل ذمہ دار بڑے افسران کو بچا کر تمام ذمہ داری چھوٹے اہلکاروں پر ڈال دی جائے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔

رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے کہا کہ آئی ٹی بل عوام پر مسلط کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کے مطابق مجوزہ قانون سازی کے بعض پہلوؤں پر عوام کو شدید تحفظات تھے، جبکہ قومی اسمبلی میں قانون سازی کے موجودہ طریقہ کار کو بھی مزید شفاف بنانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شہری اپنے گھر پر ٹاور لگانے کی اجازت نہ دے تو اس پر جرمانے کی بات کی گئی، جو قابلِ تشویش امر ہے۔ سحر کامران نے کہا کہ سینیٹر پلوشہ خان نے اس بل کے خلاف آواز بلند کی اور آئندہ قانون سازی کے عمل میں شفافیت یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

پمز سانحے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان ماؤں کے دکھ کا کوئی مداوا نہیں جن کے جگر گوشے ان سے بچھڑ گئے۔ ان کے مطابق متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی اور واقعے کے ذمہ داروں کا تعین ہر صورت ہونا چاہیے۔