شہدائے کربلا کے نام پر منتیں مانی جاتی ہیں

امت رپورٹ
محرم الحرام کا چاند نظر آنے کے بعد جہاں مجالس، عزاداری اور ذکر امام حسینؓ کی محافل کے انعقاد کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ وہیں نذر و نیاز کے ساتھ شہدائے کربلا کے نام پر منتیں و مرادیں بھی مانگی جاتی ہیں۔ شیعہ، سنی دونوں مسالک کے لوگ منتیں مانگتے ہیں۔ شیعہ حضرات امام بارگاہوں میں اور مجالس و ماتمی جلوسوں کے دوران منتیں مانگتے ہیں۔ جبکہ سنی زیادہ تر تعزیہ کے جلوس میں منتیں مرادیں مانگتے ہیں۔
محرم کے دوران خصوصی طور پر مانگی جانے والی منتوں مرادوں کے حوالے سے رپورٹ کی تیاری کے دوران نمائندہ ’’امت‘‘ نے شیعہ اور سنی افراد سے خصوصی بات چیت کی تو ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر منتیں اولاد، شادی اور روزگار و ملازمت کیلئے مانگی جاتی ہیں۔ اہل تشیع کی اکثریتی آبادی انچولی سوسائٹی میں محرم الحرام کے دوران تبرکات کی درجن سے زائد دکانیں سج جاتی ہیں۔ ایک دکاندار تراب زیدی نے بتایا کہ ان کے علاقے میں شہدائے کربلا سے منسوب تبرکات علم، پٹکا، تلوار، ڈھال، پنجہ، جھولا، ذوالجناح کی ڈمی، خنجر، تیرکمان، کڑے، چھلے، مشیکزے اور دیگر اشیا کی تیاری اور فروخت کا سلسلہ سال بھر جاری رہتا ہے۔ تاہم محرم کا چاند نظر آنے کے بعد ان اشیا کے خصوصی اسٹالز لگائے جاتے ہیں۔ کیونکہ شیعہ حضرات کی جانب سے منتیں مرادیں مانگنے کا سلسلہ بڑھ جاتا ہے۔ بعض لوگ منتوں کیلئے یہ اشیا خریدتے ہیں اور بعض افراد اپنی منت پوری ہونے پر چڑھا وے کیلئے یہ تبرکات لیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اہل تشیع افراد منتیں پوری ہونے کے حوالے سے چار شخصیات پر عقیدہ رکھتے ہیں اور ان کو ’’باب حاجت‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ان شخصیات میں مولا عباس، شہزادہ علی اصغر، امام رضا اور امام موسیٰ کاظم شامل ہیں۔ ان کے نام پر مانگی گئی منت ہر صورت پوری ہوتی ہے۔ جبکہ سانحہ کربلا کے دیگر شہدا کے نام پر بھی منتیں مانگی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گھروں میں معاشی پریشانیاں آتی ہیں۔ بیماریوں کا سامنا ہوتا ہے اور دیگر مشکلات آتی ہیں، جن سے نکلنے کیلئے لوگ منتیں مانگتے ہیں۔ تاہم زیادہ تر لوگ اپنے بچوں بچیوں کی شادیوں، اولاد اور کاروبار و روزگار کیلئے منتیں مانگتے ہیں۔ ان منتوں کیلئے امام بارگاہوں میں یا مجالس میں منت کی چیزیں اٹھائی جاتی ہیں۔ شادی کی منت میں لڑکی یا لڑکے کو مہندی اٹھا کر لگانی ہوتی ہے اور منت پوری ہونے پر اپنی مرضی یا توفیق کے مطابق مہندی کا چڑھاوا دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عموماً مجالس بڑے بڑے گھروں میں ہوتی ہیں۔ جہاں کے مکین مخیر حضرات کھانے پینے کا انتظام کرتے ہیں اور ساتھ ہی منتیں مانگنے والوں کیلئے کربلا کے تبرکاک بھی رکھتے ہیں۔ گھروں میں ہونے والی مجالس میں بھی ماحول امام بارگاہ والا ہوتا ہے۔ جہاں بارگاہ سج جائے، وہاں منت ہو سکتی ہے۔ ’’امت‘‘ کو شیعہ حضرات کی جانب سے بتایا گیا کہ سات محرم الحرام کو مہندی کے ماتمی جلوس اور ذوالجناح کے جلوس نکالے جاتے ہیں اور یہ دن شادی کی منت کیلئے مخصوص ہوتا ہے۔ مہندی کی مجالس کرانے والے بڑے برتن میں مہندی تیار کرکے رکھ دیتے ہیں۔ لڑکوں اور لڑکیوں کیلئے منت کی مہندی اٹھانے کا الگ انتظام کیا جاتا ہے۔ نماز مغربین کے بعد منت مانگنے والوں کو بلوایا جاتا ہے، جو اپنی ہتھیلی پر تھوڑی سی مہندی لگاتے ہیں۔ اس موقع پر دعا کرائی جاتی ہے اور شادی کے خواہش مند لڑکے اور لڑکیاں امام حسنؓ کے بیٹے شہزادہ قاسم کے نام پر منت مانگ کر دعا کرتے ہیں۔ لڑکیاں اور لڑکے دل میں یہ عہد کرتے ہیں کہ منت پوری ہونے پر کتنے سال تک یہاں آکر مہندی بنوانے کے کام میں حصہ ڈالیں گے یا امام بارگاہ میں چندہ دیں گے۔ لڑکیاں گھر جاکر یہ مہندی اتار کر محفوظ کرلیتی ہیں اور منت پوری ہونے تک جب بھی مہندی لگاتی ہیں، اس مہندی کو بھی ملا لیتی ہیں۔ بعض لڑکیاں امام زین العابدین کے نام پر محرم کی یکم سے دس تک کسی روز اسٹیل کے چھلے یا شیشے کی چوڑیاں پہنتی ہیں اور لڑکے اسٹیل کے خصوصی کڑے پہنتے ہیں، جن پر شہدائے کربلا کے نام کندہ ہوتے ہیں۔ جن کی مراد پوری نہیں ہوتی، وہ اگلے سال پھر چھلے یا مہندی اٹھاتے ہیں۔ اسی طرح لڑکیاں سال بھر منت والی چوڑیاں اور چھلے پہنتی ہیں۔ یہ اشیا تبدیل بھی ہوسکتی ہیں، جس کیلئے ہر امام بارگاہ کے اطراف تبرکات کی دکانیں سال بھر کھلی ہوتی ہیں۔ ڈیزائن یا مٹیریل تبدیل کراسکتی ہیں۔ کیونکہ منت دل میں مانگی جاتی ہے اشیا پر نہیں۔ انچولی کے نوید حسین نے بتایا کہ سانحہ کربلا کی مناسبت سے تیار کئے گئے تبرکات پر لوگ منتیں مانگتے ہیں۔ اولاد کے حوالے سے منت مانگنے کے بارے میں شاہ فیصل کالونی نمبر 4 کے رہائشی جعفر شاہ کا کہنا تھا کہ سانحہ کربلا میں 6 ماہ کے بچے علی اصغر کی قربانی کو سامنے رکھتے ہوئے اولاد کی منت اس معصوم شہید کے نام پر مانگی جاتی ہے۔ 6 محرم کو حضرت علی اصغر کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ اولاد کی منت کیلئے ان کے نام کا جھولا چڑھایا جاتا ہے۔ لکڑی کا جھولا 50 روپے اور اسٹیل کے تاروں سے بنا جھولا ڈیڑھ سو کا ملتا ہے۔ جبکہ چاندی کے جھولے کا ہدیہ 4 ہزار، ایمیٹیشن کا 12 ہزار اور طلائی جھولے کا دو سے تین لاکھ روپے تک ہوتا ہے۔ امام بارگاہ میں چونکہ مرکزی مجالس ہوتی ہیں، لہٰذا گھروں پر مجالس کرانے والے منتیں پوری ہونے اور مانگنے والوں کو بلواتے ہیں۔ بعض شیعہ حضرات امام بارگاہ میں ہی جھولا اٹھاتے ہیں۔ مرد حضرات زیادہ تر امام بارگاہ اور خواتین مخصوص گھروں پر اٹھاتی ہیں۔ اگر اولاد ہوجائے تو مراد پانے والے افراد اگلے برس اس جھولے کے ساتھ ہدیہ کے طور پر کچھ رقم امام بارگاہ یا مجلس والے گھر میں لاکر رکھ دیتے ہیں۔ تاہم منت پوری نہ ہونے پر ہر سال 6 محرم الحرام کو جھولے کو امام بارگاہ لے جاکر چکر دلواتے ہیں یا دوسرا جھولا اٹھالیتے ہیں۔ بڑی بیماریوں سے نجات کیلئے 25 محرم الحرام کو خصوصی طور پر دعا ہوتی ہے اور شفایابی کیلئے منت مانگی جاتی ہے۔ یوم عاشور کے بعد 25 محرم کو مختلف علاقوں سے ماتمی جلوس نکلتے ہیں۔ جعفر طیار سوسائٹی کے رہائشی اصغر علی نے بتایا کہ 25 محرم کو شہدائے کربلا کے علامتی تابوت بنا کر جلوس نکالتے ہیں۔ پچیس محرم کی مجلس میں بیماریوں سے نجات کیلئے شہزادہ سجاد حسین کے نام پر منت مانگی جاتی ہے۔ امام بارگاہوں کے قریب دکانوں پر چھوٹے چھوٹے لکڑی، لوہے اور پیتل کے تابوت ملتے ہیں، جو اس منت کیلئے چڑھائے جاتے ہیں، اور صحت یابی کے بعد یہ تابوت امام بارگاہ یا مجلس والے گھر میں رکھ دیئے جاتے ہیں۔ بانجھ پن اور کینسر سمیت بڑی بیماریوں سے شفا کیلئے رنگ برنگی دھاگے والی منت کی ڈوری بھی خریدی جاتی ہے، جنہیں بیمار افراد ہاتھوں میں باندھ لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ روزگار یا ملازمت کے حصول اور کاروبار میں برکت و ترقی کیلئے 10 محرم الحرام کو یا چہلم کی مجالس کے دوران امام حسنؓ کے نام پر منت مانگی جاتی ہے۔ اس کو ’’دستر خوان‘‘ کہتے ہیں۔ اس دسترخوان پر بیروزگاری سے نجات کیلئے منت مانگنے والے آتے ہیں۔ ’’امت‘‘ کو رضویہ سوسائٹی کے رہائشی ہاشم حسین نے بتایا کہ تبرکات کی دکانوں پر لوہے اور چاندی کی ہتھکڑیاں اور بیڑیاں بھی فروخت ہوتی ہیں۔ یہ منت چوتھے امام زین العابدین کے نام پر وہ مانگتے ہیں، جن کے پیارے جیلوں میں ہوتے ہیں یا کسی اور مشکل کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کی رہائی کیلئے وہ بیڑیاں اور طوق جسم پر ڈالتے ہیں اور خود کو 24 محرم کے دن زنجیروں میں جکڑ کر منت کی جگہ پر آتے ہیں۔ 24 محرم کو مجالس بھی ہوتی ہیں اور جلوس بھی نکالے جاتے ہیں۔ مخصوص دکانوں پر شہید علی اصغر کے نام کا کرتہ فروخت ہوتا ہے، جو کالا، ہرا اور لال ہوتا ہے۔ بیمار لوگ علی اصغر کے نام پر بیماری سے نجات کی منت مانگتے ہیں۔ شیعہ افراد یکم سے عاشورہ تک امام ضامن خریدتے ہیں، جس پر زری یا کڑھائی سے امام حسینؓ کا نام لکھا جاتا ہے اور جب بھی جان کا خطرہ محسوس کرتے ہیں تو امام ضامن دائیں بازو پر باندھ لیتے ہیں۔ احمد حسین نے بتایا کہ امام حسینؓ سے منسوب ذوالجناح کے اوپر ڈالی گئی کالی چادر پر شہدائے کربلا کے نام لکھے ہوتے ہیں۔ اس چادر پر تیر پیوست دکھائے جاتے ہیں اور تلوار اور ڈھال لگائی جاتی ہے۔ ذوالجناح پر لاکھوں روپے کے طلائی زیورات چڑھائے جاتے ہیں۔ شیعہ حضرات ذوالجناح کو جلیبیاں، فروٹ یا مٹھائی کھلا کر منت مانگتے ہیں اور اس کے منہ سے بچی مٹھائی منت مانگنے والا خود کھا لیتا ہے۔ اگر کسی نے مٹھائی میں جلیبی کھلائی ہے تو وہ شخص پھر سال بھر یا منت پوری ہونے تک جلیبی نہیں کھائے گا۔ بچوں کو ذوالجناح سے مس کر کے یا نیچے سے نکال کر بھی منت مانگی جاتی ہے۔ ماتمی جلوسوں میں علم یا ذوالجناح کو ہاتھ لگا کر بھی مختلف منتیں مانگی جاتی ہیں۔ ان جھنڈوں (علم) پر شہدائے کربلا کے نام تحریر ہوتے ہیں۔ علم پر منت مانگنے والے اپنی مراد پوری پر امام بارگاہ میں رقم نذر کے طور پر دیتے ہیں۔
سروے کے دوران معلوم ہوا کہ محرم الحرام کے دوران سنی مسلک کے افراد بھی منتیں مرادیں مانگتے ہیں۔ مرد و خواتین روضہ امام حسینؓ کی شبیہ والے تعزیوں کے نیچے سے نکل کر منتیں مانگتی اور دعائیں کرتے ہیں۔ اولاد کی منت پوری ہونے پر اگلے سال تعزیے پر جھولا چڑھایا جاتا ہے۔ 10 محرم کو جب تعزیے علاقے میں لاکر رکھے جاتے ہیں تو بے اولاد خواتین لکڑی کے جھولے اٹھانے آتی ہیں۔ اولاد کی منت امام حسینؓ کے نام پر مانگی جاتی ہے۔ شاہ فیصل کالونی کے رہائشی زاہد نے ’’امت‘‘ کو بتایا کہ اس کی شادی کو بارہ سال ہوگئے ہیں، لیکن وہ اولاد کی نعمت سے محروم ہے۔ اب دو سال سے تعزیے پر جھولا چڑھا رہا ہے۔ منت پوری ہونے پر حسب توفیق تعزیے پر نذر چڑھائے گا۔ محمد رفیق کا کہنا تھا کہ وہ بیماری سے شفا کیلئے تعزیے کے نیچے سے 7 مرتبہ گزرے ہیں اور انشاء اللہ وہ جلد ٹھیک ہوجائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ بے اولاد لوگ محرم میں دعا کرتے ہیں کہ ان کو اولاد ہوگئی تو وہ اس کو امام حسینؓ کا فقیر بنائیں گے۔ پھر بچہ یا بچی ہونے پر پانچ سال تک ہر برس 8 محرم کو اس بچے کو ہرے کپڑے پہنا کر ملنگ بنایا جاتا ہے۔ ننگے پاؤں، ننگے سر اس بچے کو گود میں لے کر پیدل محلے میں گھر گھر لے جاتے ہیں۔ بچے کے گلے میں کپڑے کی ایک تھیلی لٹکائی جاتی ہے، جس میں ریوڑیاں ہوتی ہیں۔ وہ بچہ ہر گھر میں دو ریوڑیاں دیتا ہے اور گھر والے لازمی اس کو چند روپے بطور نذرانہ دیتے ہیں۔ اذان مغرب سے عشا کی اذان تک یہ عمل کیا جاتا ہے اور بچے کے والدین جمع شدہ رقم سے مٹھائی خرید کر بچوں میں تقسیم کردیتے ہیں۔
٭٭٭٭٭

Comments (0)
Add Comment