قابل رشک موت

ایک بزرگ حضرت مولانا یعقوب صاحب مجددیؒ گزرےہیں، حضرت مولانا ابو الحسن علی ندویؒ ان کی مجلس میں جا کر بیٹھا کرتے تھے اور ان کے ملفوظات بھی جمع فرمائے ہیں، ان کے حالات میں لکھا ہے کہ جب ان کا انتقال کا وقت آیا تو جمعہ کا دن تھا، صبح کے وقت اٹھ کے جلدی سے انہوں نے غسل کیا اور عمدہ کپڑے پہنے، بڑے ہشاش بشاش نظر آ رہے تھے اور چہرے پر مسکراہٹ ہی مسکراہٹ تھی۔
لوگوں نے کہا کہ حضرت! آپ کا کوئی سفر ہے کیا؟ بہت جلد تیار ہو گئے ہیں۔ کہا کہ ہاں سفر ہے۔ لوگ سمجھے کہ کہیں قریب کا سفر ہو گا، لیکن حضرت گئے ہی نہیں، نماز جمعہ کا وقت قریب آنے لگا تو خادموں سے کہا کہ تکیہ لاؤ، تکیہ لایا گیا، پھر حضرت لیٹ گئے اور کلمہ پڑھا اور روح قبض ہو گئی۔
تب لوگوں کو سمجھ میں آیا کہ یہ پوری تیاری دراصل آخرت کے سفر کے لیے تھی، دیکھیے خدا سے ملاقات کی کیسی خوشی تھی ان کو۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اولیا کو موت کے وقت کس قدر خوشی و فرحت ہوتی ہے کہ وہ خدا سے ملاقات کرنے والے ہیں اور وہ بزبان حال یوں کہتے ہیں کہ: میں اس دن بڑا خوش ہوں گا جب اس ویران منزل سے کوچ کروں گا۔موت سے پہلے انہیں ان کا آخری ٹھکانہ دکھایا جاتا ہے۔ اس لئے انہیں دنیا سے جانے کا کوئی غم نہیں ہوتا۔ وہ اپنے رب سے ملاقات کے شوق میں فرشتہ اجل کا بخوشی استقبال کرتے ہیں ۔ ٭
٭٭٭٭٭

Comments (0)
Add Comment