معارف القرآن

معارف و مسائل
مذکورہ مضمون کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو امام احمدؒ اور ابن ابی حاتمؒ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی ہے کہ جب آیت ثُلَّۃٌ مِّنَ الاَوَّلیْنَ … نازل ہوئی تو صحابہ کرامؓ پر شاق ہوا کہ ہم بہ نسبت امم سابقہ کے کم رہیں گے، اس وقت دوسری آیت نازل ہوئی وَثُلَّۃٌ مِّنَ الاٰخِرِینَ، اس وقت رسول اکرمؐ نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ تم یعنی امت محمدیہ جنت میں ساری مخلوق کے مقابلے میں چوتھائی، تہائی، بلکہ نصف اہل جنت ہو گے اور باقی نصف میں بھی کچھ تمہارا حصہ ہوگا۔ (ابن کثیر) جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مجموعی طور پر اہل جنت میں اکثریت امت محمدیہ کی ہو جائے گی، مگر ان دونوں حدیثوں سے استدلال میں ایک اشکال یہ ہے کہ قَلِیلٌ مِّنَ الاٰخِرِینَ تو سابقین مقربین کے متعلق آیا ہے اور دوسری آیت میں جو ثُلَّۃٌ مِّنَ الاٰخِرِینَ آیا ہے وہ سابقین مقربین کے متعلق نہیں، بلکہ اصحاب الیمین کے متعلق ہے۔
اس کا جواب روح المعانی میں یہ دیا ہے کہ صحابہ کرامؓ اور حضرت عمرؓ کو جو پہلی آیت سے رنج و غم ہوا، اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ انہوں نے یہ خیال کیا ہوگا کہ جو نسبت سابقین میں ہے، وہی شاید اصحاب الیمین اور عام اہل جنت میں ہوگی، جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کل اہل جنت میں ہماری تعداد بہت کم رہے گی، جب اصحاب الیمین کی تشریح میں اولین و آخرین دونوں میں لفظ ثلتہ نازل ہوا تو اس شبہ کا ازالہ ہوگیا کہ مجموعی اعتبار سے اہل جنت میں امت محمدیہ کی اکثریت رہے گی، اگرچہ سابقین اولین میں ان کی تعداد مجموعہ امم سابقہ کے مقابلے میں کم رہے، خصوصاً اس وجہ سے کہ مجموعہ امم سابق میں ایک بھاری تعداد انبیائے علیہم السلام کی ہے، ان کے مقابلہ میں امت محمدیہ کے لوگ کم رہیں تو کوئی غم کی چیز نہیں۔
لیکن ابن کثیر، ابو حیان، قرطبی، روح المعانی، مظہری وغیرہ نے سب تفسیروں میں دوسری تفسیر کو ترجیح دی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ اولین و آخرین دونوں طبقے اسی امت کے مراد ہیں ، اولین اس امت کے قرون اولیٰ یعنی صحابہ و تابعین وغیرہ ہیں، جن کو حدیث میں خیر القرون فرمایا ہے اور آخرین قرون اولیٰ کے بعد والے حضرات ہیں۔
ابن کثیر نے حضرت جابرؓ کی مرفوع حدیث جو پہلی تفسیر کی تائید میں اوپر لکھی گئی ہے ، اس کی سند کے متعلق کہا ہے ولکن فی اسنادہ نظر ، دوسری تفسیر کے لئے استدلال میں، وہ آیات قرآنی پیش کی ہیں جن میں امت محمدیہ کا خیر الامم ہونا مذکور ہے جیسے کنتم خیر امۃ وغیرہ اور فرمایا کہ یہ بات بہت مستبعد ہے کہ سابقین مقربین کی تعداد خیر الامم میں دوسری امتوں کی نسبت سے کم ہو، اس لئے راجح یہ ہے کہ ثُلَّۃٌ مِّنَ الاَوَّلینَ سے مراد اسی امت کے قرون اولیٰ ہیں اور قَلِیلٌ مِّنَ الاٰخِرِینَ سے مراد بعد کے لوگ ہیں کہ ان میں مسابقین مقربین کی تعداد کم ہوگی۔ (جاری ہے)
٭٭٭٭٭

Comments (0)
Add Comment